اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 قصة ادخال العالم في بيضة

اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 648
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: قصة ادخال العالم في بيضة   الثلاثاء نوفمبر 07, 2017 8:47 pm

بسم الله الرحمن الرحيم
ہشام بن حکم امام جعفر صادق علیہ السلام کے بہترین شاگرد تھے۔ایک دن ایک منکر خدا نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا: ”کیا تمہارا خدا ہے“۔
ہشام: ”ہاں“۔
عبد اللہ: ”آیا تمہارا خدا قادر ہے ؟ “
ہشام: ”ہاں میرا خدا قادر ہے اور تمام چیزوں پر قابض بھی ہے“۔
عبد اللہ: ”کیا تمہارا خدا ساری دنیا کو ایک انڈے میں سمو سکتا ہے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ ہی انڈا بڑا ہوا۔؟ “
ہشام: ”اس سوال کے جواب کے لئے مجھے مہلت دو“۔
عبد اللہ: ”میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں“۔
ہشام یہ سوال سن کر امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: ”اے فرزند رسول !،عبد اللہ دیصانی نے مجھ سے ایک ایسا سوال کیا جس کے جواب کے لئے صرف خداوند متعال اور آپ کا سہارا لیا جا سکتا ہے“۔
امام علیہ السلام: ”اس نے کیا سوال کیا ہے ؟ “
ہشام: ”اس نے کہا کہ کیا تمہارا خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس وسیع دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے جب کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا ہو ؟ “
امام علیہ السلام: ”اے ہشام! تمہارے پاس کتنے حواس ہیں ؟ “
ہشام: ”میرے پانچ حواس ہیں“۔(سامعہ ،باصرہ، ذائقہ ،لامسہ اور شامہ )
امام علیہ السلام: ”ان میں سب سے چھوٹی حس کون سی ہے ؟ “
ہشام: ”باصرہ“۔
امام علیہ السلام: ”آنکھوں کا وہ ڈھیلا جس سے دیکھتے ہو، کتنا بڑا ہے ؟ “
ہشام: ”ایک چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا ہے“۔
امام علیہ السلام: ”اے ہشام ! ذرا اوپر اور سامنے دیکھ کر مجھے بتاوٴ کہ کیا دکھتے ہو ؟“
ہشام نے دیکھا اور کہا: ”زمین، آسمان ،گھر، محل ،بیابان ،پہاڑ اور نہروں کو دیکھ رہا ہوں“۔
امام علیہ السلام: ”جو خدا اس بات پر قادر ہے کہ اس پوری دنیا کو تمہاری چھو ٹی سے آنکھ میں سمو دے وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس دنیا کو ایک انڈے کے اندر سمودے اور نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈہ بڑا ہو۔
ہشام نے جھک کر امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھ اور پیروں کا بوسہ دیتے ہوئے کہا: ”اے فرزند رسول ! بس یہی جواب میرے لئے کافی ہے“۔[1]




القارب المتحرك


۔ علی بن میثم کا ایک منکر خدا سے بہترین مناظرہ
ایک روز علی بن اسماعیل مامون کے وزیرحسن بن سہل کے پا س گئے تو دیکھا ایک ہواو ہوس پرست منکر خدا لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہے اور وزیر مامون اس کا بہت احترام کر رہا ہے اور دیگر تما م بڑے بڑے اور عظیم دانشور حضرات اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ منکر خدا بڑی گستاخی کے ساتھ اپنے مذہب کی حقانیت کے بارے میں باتیں کر رہا ہے۔
علی بن میثم یہ دیکھ کر ٹھہر گئے اور اپنے مناظرہ کی شروعات کی۔
علی بن میثم نے حسن بن سہل سے اس طرح کہا: ”اے وزیر! آج میں نے تمہارے گھر کے باہر ایک بہت ہی عجیب چیز دیکھی ہے ؟
وزیر: ”کیا دیکھا ؟“
علی بن میثم : ”دیکھا کہ ایک کشتی بغیر کسی ناخدا اور رسی کے ادھر سے ادھر چل رہی ہے“۔
اس وقت وہ منکر خدا جو وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے وزیر سے کہا: ”یہ (علی بن میثم)دیوانہ ہے کیونکہ عجیب الٹی سیدھی بات کرتا ہے“۔
علی بن میثم: ”نہیں صحیح بات کر رہاہوں میں دیوانہ کیوں ہونے لگا؟“
منکر خدا: ”لکڑی سے بنی کشتی بغیر ناخدا کے کیسے ادھر سے ادھر جائے گی؟“
علی بن میثم: ”یہ میری بات تعجب آور ہے یا تمہاری کہ یہ عالم ہستی جو عقل وجان رکھتی ہے یہ مختلف گھاس اور دیگر نباتات جو زمین سے اگتے ہیں، یہ باران رحمت جو زمین پر نازل ہوتی ہے تیرے عقیدہ کے مطابق بغیر کسی خالق و مدبر کے ہے جب کہ تو ایک چھوٹی سی چیز کے لئے کہتا ہے کہ بغیر کسی ناخدا اور راہنما کے ادھر سے ادھر نہیں چل سکتی؟“
یہ منکر خدا علی بن میثم کا جواب دینے سے بے بس ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہ کشتی والی مثال صرف مجھے شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔[68]








http://www.alhassanain.com/urdu/book/book/belief_library/debates_and_replies/ek_so_das_dilchasp%20munaziray/002.html
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
قصة ادخال العالم في بيضة
الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: خطب-
انتقل الى: