اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں دعبل

اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 648
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں دعبل    الثلاثاء يناير 17, 2017 1:55 am



امام رضا علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:جب ماہ محرم داخل ہوجاتا تو کوئی میرے پدر کو ہنستا ہوا نہیں دیکھتا،اور یہی کیفیت روز عاشورا تک باقی رہتی، اس روز میرے پدر پر حزن و مصیبت و اندوہ چھا جاتا،آپ(ع) گریہ کرتے اور فرماتے آج ہی کے دن حسین علیہ السلام کو (ان پر خدا کا درود و سلام ہو ) قتل کیا گیا۔(۱)
امام رضا علیہ السلام کی عزاداری
امام رضا علیہ السلام کا گریہ اس منزل میں تھا کہ فرمایا: یقیناً امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کے دن نے ہماری پلکوں کو زخمی اور ہمارے آنسوؤں کو جاری کردیا ہے۔(۲)
دعبل حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آئے آپ(ع) نے شعر اور امام حسین علیہ السلام پر گریہ سے متعلق کچھ کلمات ارشاد فرمائے منجملہ یہ کہ اے دعبل! جو شخص میرے جد حسین علیہ السلام کی مصیبتوں پر گریہ کرے خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، پھر آپ(ع) نے حاضرین اور اپنے خانوادہ کے بیچ ایک پردہ نصب کیا تاکہ وہ امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر آنسو بہائیں۔
اس کے بعد آپ(ع) نے دعبل سے فرمایا: امام حسین علیہ السلام کا مرثیہ پڑھو کہ جب تک تم زندہ ہو ہمارے ناصر و مداح رہو، اور جب تک تمہیں قدرت ہے ہماری نصرت میں کوتاہی نہ کرو دعبل نے اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے یہ شعر پڑھا:
أفاطم لو خلت الحسین مجدّلا و قد مات عطشاناً بشط فرات
ترجمہ:اگر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اپنے حسین کو زمین پر پڑا دیکھ لیں کہ جو فرات کے کنارہ بھی پیاسا شہید کردیا گیا۔
اذاً للطمت الخد فاطم عنده وأجریت دمع العین فی الوجنات
ترجمہ:اسی وقت فاطمہ( سلام اللہ علیھا ) اپنا چہرہ پیٹنے لگے گی اور ان کے رخساروں پر آنسو بہنے لگے گے۔
تو امام(ع) ور آپ(ع)کے اہل حرم کی صدائے گریہ بلند ہوگئی۔(۳)

(۲)

حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں دعبل کے اشعار

دعبل نے اکثر و بیشتر موارد میں خاندان عصمت علیھم السلام کے حق کو غصب کرنے کے بارے میں آواز اٹھائی کہ جن میں سے ان کے یہ دو شعر ہیں کہ جنہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو سخت غمگین اور محزون کر دیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

پہلا شعر:

أرى فَيْئَهُم فى غَيْرهِم مُتَقَسِّماً

وَأَيدِيَهُم مِن فَيْئِهِمْ صَفَراتِ

میں خاندان عصمت علیہ السلام کا حق دوسروں کے پاس تقسیم ہوتا دیکھ رہا ہوں اور ان کے ہاتھ ان کے حق اور اموال سے خالی ہیں۔

جب حضرت امام رضا علیہ السلام نے یہ شعر سنا تو گریہ کناں ہوئے اور فرمایا:

صَدَقْتَ يا خُزاعي.

اے دعیل! تم نے سچ کہا۔

دوسرا شعر:

اِذا وُتِرُوا مَدُّوا اِلى واتِريهِمُ

اَكُفًّا عَنِ الْاَوْتارِ مُنْقَبِضاتِ

جب کینہ رکھنے والوں کی طرف سے اہلبیت اطہارپر ستم ہوتا تو وہ اپنے حق کے حصول کے لئے دست بستہ ہاتھ دراز کرتے ہیں۔لیکن ان کے ہاتھ ان کے حق تک نہیں پہنچتے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے یہ شعرسننے کے بعد اپنے دونوں دست مبارک بلند کئے اورغمگین انداز میں فرمایا:

خدا کی قسم ہمار ے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں.(1)

https://almonji.com/ur/node/11154



كان بعض الشعراء يرفض التملق إلى الحكومات ، ويبقى إلى جانب الحق حتى لو كان فقيراً ومضطهداً ، كما نرى مثل ذلك في دعبل الخزاعي شاعر أهل البيت ( عليهم السلام ) .
سجّل التاريخ لقاء الشاعر دعبل الخزاعي بالإمام الرضا ( عليه السلام ) ، فقد روى أبو الصلت الهروي قال : دخل دعبل الخزاعي على الإمام الرضا ( عليه السلام ) في مرو وقال له : يابن رسول الله أني قد قلت فيكم قصيدة وعاهدت نفسي ألاّ أنشدها أحداً قبلك ، فرحّب به الإمام وشكره وطلب منه إنشادها .

وبدأ دعبل يترنّم بأشعاره ، وقد جاء فيها :
مدارس آياتٍ خلت من تلاوةٍ ومنزلُ وحيٍ مقفر العرصاتِ
قبور " بكوفان " وأخرى " بطيبة وأخرى " بفخٍّ " نالها صلواتي
وقبر ببغداد لنفسٍ زكيةٍ تضمّنها الرحمن في الغرفاتِ
فقال الإمام مرتجلاً :
وقبر بطوس يا لها من مصيبةٍ ألحّت على الأحشاء بالزفرات
فقال دعبل متعجباً : لا أعلم قبراً بطوس ! فلمن هذا القبر ؟!
فقال الإمام : إنه قبري يا دعبل .
واستأنف الشاعر إنشاده مستعرضاً الآلام والمصائب التي عصفت بأهل البيت (عليهم السلام ) ، وكان الإمام يبكي ويكفكف دموعه .

قدم الإمام 100 دينار جائزة لدعبل ، اعتذر دعبل عن قبولها وطلب ثوباً من ثيابه يتبرّك به ، فأهداه الإمام جبّة من الخز ، إضافة إلى المئة الدينار .
وانصرف دعبل ، وفي طريق عودته اعترض قطاع الطرق القافلة التي كان فيها وأخذوا جميع ما كان معه ، وجلس اللصوص يقتسمون ما سلبوه من القافلة ، فأنشد أحدهم بيتاً من القصيدة .
أرى فيئهم في غيرهم متقسِّماً وأيديهم من فيئهم صفراتِ
سمع دعبل الخزاعي فسأل الرجل : لمن هذا الشعر ؟ فأجابه الرجل : لدعبل الخزاعي .
فقال دعبل : أنا هو ، فردّوا عليه أمواله ، كما ردّوا أموال القافلة إكراماً له ، واعتذروا إليه .
وعندما وصل مدينة قم عرَض عليه البعض ألف دينار مقابل ثوب الإمام فرفض دعبل ، وتبعه بعض الشباب خارج المدينة وانتزعوا الجبّة بالقوة وأعطوه الألف دينار إضافة إلى قطعة من الثوب يتبرك بها ، وودّعهم راضياً .
وفي عودته وجد زوجته تشكو ألماً في عينيها ، فراجع الأطباء فقالوا : أن لا فائدة من علاجها ، وأنها ستعمى .
تألّم دعبل كثيراً ، وتذكّر قطعة الثوب ، فعصّب بها عينيها من أول الليل حتى الصباح ، فنهضت وهي لا تشكو ألماً ببركة الإمام الرضا ( عليه السلام ) .

الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں دعبل
الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: خطب-
انتقل الى: