اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 حديث عن الغضب

استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 618
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: حديث عن الغضب   الجمعة نوفمبر 11, 2016 4:02 am

وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ( آل عمران۱۱۴)
ترجمہ:غصہ پی جانےوالے،لوگوں کو معاف کرنے والے اور احسان کرنے والے کواللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔

قال الامام محمدالباقرعلیہ السلام:
” ان ھذا الغضب جمرة من الشیطان توقد فی قلب ا بن آدم

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں :
” غیض و غضب آگ کا ایک شعلہ ھے جو شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں بھڑکتا ھے “ ۔
(۹)
إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطٰنِ وَإِنَّ الشَّيْطٰنَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ۔(ابو داؤد،باب ما یقال عندالغضب)
ترجمہ:غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا جب کسی کو غصہ آجائے تو وضو کرلے ۔

إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ،فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ۔ (ابو داؤد،باب ما یقال عندالغضب)
ترجمہ:جب کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔

دُلَّنِی عَلٰی عَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ، قال :لَاتَغْضَبْ،لَکَ الْجَنَّۃَ۔(معجم کبیرازطبرانی،باب قطعۃ من المفقود)
ترجمہ:مجھے کوئی ایسی ترکیب بتائیں جو مجھےجنت میں پہنچا دے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ غصہ نہ کرو، جنت میں پہنچ جاؤگے۔

مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَہُوَ یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُنْفِذَہٗ، دَعَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِعَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلاَئِقِ، حَتّٰی یُخَیِّرَہٗ فِی أَیِّ الْحُوْرِ شَاءَ۔ (سنن ترمذی،باب فی کظم الغیظ)
ترجمہ: جس نے قدرت کے باوجوداپنےغصے کوپی لیاتو اللہ رب العزت اُسے قیامت کے دن اختیار دے گا کہ وہ حوروں میں سے جس حورکوچاہے لے لے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أوصني فقال : لا تغضب ، ثم ردد مرارا فقال : لا تغضب .
( صحيح البخاري : 6116 ، الأدب ، سنن الترمذي : 2020 ، البر ، مسند أحمد : 2/362 )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوا ، اور عرض پرداز ہوا کہ آپ مجھے کوئی وصیت کردیجئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غصہ نہ کرو ، پھر اس نے کئی بار یہی سوال کیا اور ہر بار یہی جواب دیتے رہے : تم غصہ نہ کرو ۔

وقال رجلٌ اَوْصِنى، فقال صلى الله عليه وآله وسلّم: لاتَغضَب، ثم أعادَ عليه، فقال: لاتَغضَب، ثمّ قال: ليس الشّديد بِالصّرَعَةِ، انّما الشديدُ الذي يَملكُ نفسه عند الغضبِ.
تحف العقول صفحه 47
ترجمہ:
ایک شخص نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں، پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا؛ غصہ نہ کرو اس نے ایک بار پھر یہی درخواست کی، پیغمبر اسلام نے دوبارہ فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو پھر آپ نے مزید فرمایا کہ طاقتور انسان وہ نہیں ہے جو دوسروں کو زمین پر پٹخ دے۔ طاقتور انسان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت بے قابو نہ ہو جائے۔

http://alehsanworld.blogspot.com/2015/11/gussa-aur-narazgi.html?m=1

http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=84438
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
حديث عن الغضب
استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: حديث-
انتقل الى: