اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 امر بالمعروف ونہی عن المنکر

استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 618
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: امر بالمعروف ونہی عن المنکر   الجمعة سبتمبر 23, 2016 1:22 pm

امام علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں پڑھا:

”  لاتترکو الامربالمعروف والنھی عن المنکر فیولی علیکم شرارکم ثم تد عون فلا یستجاب لکم“؟

”امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو ترک نہ کرنا ورنہ بد کار لوگ تم پر حاکم ہوجائیں گے۔ پھر تم ان کو بلاؤ گے تو وہ تمہاری آوا زپر لبیک نہ کہیں گے“


امیرالمنین علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں پہنچا کہ جس میں آپ نے فر مایا :

” امر نا رسول اللہ صل  اللہ علیہ وآلہ وسلم ان نلقی اھل المعاصی بو جوہ مکفھرة“

”  امیرا لمو منین علیہ السلام نے فر ما یا کہ رسول خدا ﷺنے ہم کو حکم دیا کہ جب ہم اہل معاصی ( گناہ کر نے والو ں) سے ملیں تو ترش روئی کے ساتھ ملیں۔“

رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان .

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔" تم میں سے جو شخص کسی خلاف شرع امر کو دیکھے (یعنی جس چیز کو شریعت کے خلاف جانے) تو اس کو چاہئے کہ اس چیز کو اپنے ہاتھوں سے بدل ڈالے (یعنی طاقت کے ذریعہ اس چیز کو نیست و نابود کر دے مثلا باجوں گا جوں اور آلات لہو و لعب کو توڑ پھوڑ دے، نشہ آور مشروبات کو ضائع کر دے اور ہڑپ کی ہوئی چیز کو اس کے مالک کے سپرد کرا دے وغیرہ وغیرہ) اور اگر وہ خلاف شرع امر کے مرتکب کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ سے ہاتھوں کے ذریعہ اس امر کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ذریعہ اس امر کو انجام دے (یعنی خلاف شرع امور کے بارے میں وعید کی آیتیں اور احادیث کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ذریعہ اس امر کو انجام دے (یعنی اس کو دل سے برا جانے قلبی کڑھن رکھے اور عزم و ارادہ پر قائم رہے کہ جب بھی ہاتھ یا زبان کے ذریعہ اس امر کو انجام دینے کی طاقت حاصل ہوگی تو اپنی ذمہ داری کو ضرور پورا کرے گا، نیز اس خلاف شرع امر کے مرتکب کو بھی برا جانے اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرے) اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" (مسلم)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کو نہیں سنا کہ وہ ارشاد فر ماتے ہیں:

ْْلاتزال امتی بخیر ماامر وابالمعروف ، ونھواعن المنکر وتعاونوا علی البر الخ“

”جب تک میری امت اچھائی اور نیکی کا حکم کرے گی اور برا ئی سے رو کے گی اور نیکی پر ایک دوسرے کی مدد کرے گی اس وقت تک میری امت سے خیر ختم نہیں ہو گا


ولتکن منکم امةیدعون الی الخیر یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون“

”اور تم میں سے کچھ لوگ ہوں جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں اور اچھی باتوں کا حکم کریں اور بری باتوں سے روکیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“پس تم بھی لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دو اور انھیں اچھائی کا حکم دو اور برائی سے رو کو۔


الامر بالمعروف والنھی عن المنکر خلقان من خلق اللہ، فمن نصر ھما اعزہ اللہ ومن خذ لھما خذلہ اللہ “

”  امر بالمعروف ونہی عن المنکر دو مخلوق خدا ہیں ، جو شخص ان دو نو ں کی مدد کرے گا تو خدا اسے عزت عطا کرے گا اور جو ان کو ذلیل ورسوا کرے گا تو خدا اس کو ذلیل ورسوا کرےگا “


من راٰی منکم فلیغیرہ ُبیدہٖ فان لُم یستطع فبلسانہٖ فان لّم یستطع فبقلبہٖ و ذالک اضعفُ الایمان۔ (مسلم)
یعنی تم میں جب کوئی شخص برایء کو دیکھے تو چاہئے کہ اپنے ہا تھوں سے کام لے کراس کو دور کرے اور اگر اس کی طاقت نہ پائےتو زبان سے ۔ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اور یہ آخری صورت ایمان کی بڑی کمزوری کا درجہ ہے


http://www.alimamali.com/html/urd/book/asan%20masael4/6.htm

http://www.hadithurdu.com/09/9-4-1062/

http://tablighijamaattruth.blogspot.com/2012/11/tablighi-jamaat-ki-haqeeqat-urdu-book.html?m=1
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
امر بالمعروف ونہی عن المنکر
استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: حديث-
انتقل الى: