اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 نهج البلاغة 6 7 8

استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 618
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: نهج البلاغة 6 7 8   الثلاثاء يوليو 12, 2016 7:28 pm

بسم الله الرحمن الرحيم

و من كلام له عليه السلام لما أشير عليه بأن لا يتبع طلحة و الزبير و لا يرصد لهما القتال
وَ اللَّهِ لَا أَكُونُ كَالضَّبُعِ تَنَامُ عَلَى طُولِ اللَّدْمِ حَتَّى يَصِلَ إِلَيْهَا طَالِبُهَا وَ يَخْتِلَهَا رَاصِدُهَا وَ لَكِنِّي أَضْرِبُ بِالْمُقْبِلِ إِلَى الْحَقِّ الْمُدْبِرَ عَنْهُ وَ بِالسَّامِعِ الْمُطِيعِ الْعَاصِيَ الْمُرِيبَ أَبَداً حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمِي فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّي مُسْتَأْثَراً عَلَيَّ مُنْذُ قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ اله حَتَّى يَوْمِ النَّاسِ هَذَا

خطبہ 6
جب آپ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں، اور ان سے جنگ کرنے کی نہ ٹھان لیں تو آپ نے فرمایا:

خدا کی قسم میں اس بجوّ کی طرح نہ ہوں گا جو لگاتار کھٹکھٹائے جانے سے سوتا ہوا بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طلب گار (شکاری) اس تک پہنچ جاتا ہے، اور گھات لگا کر بیٹھنے والا اس پر اچانک قابو پالیتا ہے۔ بلکہ میں تو حق کی طرف بڑھنے والوں اور گوش پر آواز اطاعت شعاروں کو لیکر ان خطاؤ شک میں پڑنے والوں پر اپنی تلوار چلاتا رہوں گا،یہاں تک کہ میری موت کا دن آجائے ۔ خدا کی قسم! جب سے اللہ نے اپنے رسول کو دنیا سے اٹھایا برابر دوسروں کو مجھ پر مقدم کیا گیا اور مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا (۱)۔

۱) جب امیرالموٴمنین نے طلحہ و زبیر کے عقب میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، ایسا نہ ہو کہ ان سے آپ کو کوئی گزند پہنچے تو اس کے جواب میں آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے جن کا ماحصل یہ ہے کہ:"میں کب تک اپنا حق چھینتا ہوا دیکھتا رہوں گا اور خاموشی بیٹھا رہوں گا۔ اب تو جب تک میرے دم میں دم ہے، میں ان سے لڑوں گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر رہوں گا۔ اور انہیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیئے کہ میں بجوّ کی طرح بآسانی ان کے قابو آجاؤں گا"۔ "ضبع" کے معنی بجوّ کے ہیں۔ اس کی کنیت ام عامر اور ام طریق ہے اور اسے حضاجر بھی کہا جاتا ہے۔ "حضاجر"، "حضجر" کی جمع ہے جس کے معنی پیٹو کے ہوتے ہیں،لیکن جب جمع کی صورت میں اسے استعمال کیا جائے تو اس سے بجو مراد لی جاتی ہے، کیونکہ یہ ہر چیز نگل جاتا ہے اور جو پاتا ہے ہڑپ کر جاتا ہے گویا اس میں کئی ایک پیٹ جمع ہو گئے ہیں جو بھرنے میں نہیں آتے اور اسے نعثل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بڑا سیدھا سادھا اور بڑا بیوقوف جانور ہوتا ہے۔ اگر کسی کی انتہائی حماقت دکھانا مقصود ہو تو یہ کہا جاتا ہے"فلاں احمق من الضبع"۔"فلاں تو بجو سے بھی زیادہ بیوقوف ہے"، چنانچہ اس کی حماقت اس کے بٓاسانی شکار ہوجانے ہی سے ظاہر ہے کہ شکاری اس کے بھٹ کے گرد گھیرا ڈال لیتا ہے اور لکڑی سے یا پیر سے زمین کو تھپتھپاتا ہے اور چپکے سے کہتا ہے:"اطرقی ام طریق خاصری ام عامر"۔ "اسے بجوّ اپنے سر کو جھکالے،اسے بجوّ چھپ جا"، اس جملہ کو دہرانے اور زمین کو تھپتھپانے سے وہ بھٹ کے ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر شکاری کہتا ہے:"ام عامر لیست فی وجارھا ام عامر نائمة"۔ "بھلا وہ اپنے بھٹ میں کہاں وہ تو کسی گوشہ میں سویا پڑا ہو گا"۔ یہ سن کر وہ ہاتھ پیر پھیلا دیتا ہے اور سوتا ہوا بن جاتا ہے اور شکاری اس کے پیروں میں پھندا ڈال کر اسے باہر کھینچ لیتا ہے اور یہ بزدلوں کی طرح بغیر مقابلہ کئے اس کے قابو میں آجاتا ہے ۔

بسم الله الرحمن الرحيم

و من خطبة له عليه السلام
اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لِأَمْرِهِمْ مِلَاكاً وَ اتَّخَذَهُمْ لَهُ أَشْرَاكاً فَبَاضَ وَ فَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ وَ دَبَّ وَ دَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ وَ نَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَرَكِبَ بِهِمُ الزَّلَلَ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الْخَطَلَ فِعْلَ مَنْ قَدْ شَرِكَهُ الشَّيْطَانُ فِي سُلْطَانِهِ وَ نَطَقَ بِالْبَاطِلِ عَلَى لِسَانِهِ

خطبہ 7
انہوں نے(۱) اپنے ہر کام کا کرتا دھرتا شیطان کو بنا رکھا ہے، اور اس نے ان کو اپنا آلہٴ کار بنا لیا ہے،اس نے ان کے سینوں میں انڈے دیئے ہیں اور بچے نکالے ہیں، اور انہیں کی گود میں وہ بچے رینگتے اور اچھلتے کودتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں سے، اور بولتا ہے تو ان کی زبانوں سے، اس نے انہیں خطاؤں کی راہ پر لگایا ہے، اور بُری باتیں سجا کر ان کے سامنے رکھی ہیں،جیسے اس نے انہیں اپنے تسلط میں شریک بنا لیا ہو،اور انہیں کی زبانوں سے اپنے کلام باطل کے ساتھ بولتا ہو۔

۱) منافقین کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ لوگ شیطان کے رفیق کار اور اس کے معین وعدہ گار ہیں اور اس نے بھی ان سے اتنی راہ و رسم پیدا کرلی ہے کہ انہی کے ہاں ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور انہی کے سینوں کو اپنا آشیانہ بنا لیا ہے۔ یہیں پروہ انڈے بچے دیتا ہے اور وہ بچے بغیر کسی جھجک کے ان کی گودیوں میں اچھل کود مچاتے ہیں یعنی ان کے دلوں میں شیطانی وسوسے جنم لیتے ہیں اور وہیں پر فروغ پاتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ نہ ان کے لیے کوئی روک ٹوک ہے نہ کسی قسم کی بندش اور وہ اس طرح ان کے خون میں رچ گیا اور روح مٰیں بس گیا ہے کہ دوئی کے پردے اٹھ چکے ہیں۔ اب آنکھیں ان کی ہیں اور نظر اس کی،زبان ان کی ہے اور قول اس کا۔ جیسا کہ پیغمبر نے فرمایا:"ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم"۔ "شیطان اولادِ آدم کے رگ و پے میں خون کی جگہ دوڑتا ہے"۔ یعنی جس طرح خون کی گردش نہیں رکتی یوں ہی اس کی وسوسہ اندازیوں کا سلسلہ رکنے نہیں پاتا اور وہ انسان کو اس کے سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے برابر برائیوں کی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور اس طرح اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے کہ ان کا ہر قول و عمل ہو بہو اس کے قول و عمل کی تصویر بن جاتا ہے جن کے سینے ایمان کی ضیابار یوں سے جگمگار رہے ہیں وہ ان وسوسوں کی روک تھام کرتے ہیں اور کچھ ان کی پذیرائی کے لیے ہر وقت آمادہ و مستعد رہتے ہیں اور وہی لوگ ہیں جو اسلام کی نقاب اوڑھ کر کفر کو فروغ دینے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم

و من كلام له عليه السلام يعني به الزبير في حال اقتضت ذلك
يَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ بَايَعَ بِيَدِهِ وَ لَمْ يُبَايِعْ بِقَلْبِهِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْبَيْعَةِ وَ ادَّعَى الْوَلِيجَةَ فَلْيَأْتِ عَلَيْهَا بِأَمْرٍ يُعْرَفُ وَ إِلَّا فَلْيَدْخُلْ فِيمَا خَرَجَ مِنْهُ

خطبہ ۸

یہ کلام زبیر(۱) کے متعلق اس وقت فرمایا جب کہ حالات اسی قسم کے بیان کے مقتضی تھے :
وہ ایسا ظاہر کرتا ہے کہ اس نے بیعت ہاتھ سے کر لی تھی مگر دل سے نہیں کی تھی۔ بہر صورت اس نے بیعت کا تو اقرار کر لیا، لیکن اس کا یہ ادعا کہ اس کے دل میں کھوٹ تھا تو اسے چاہئے کہ اس دعویٰ کے لئے کوئی دلیل واضح پیش کرے ورنہ جس بیعت سے منحرف ہوا ہے اس میں واپس آئے۔

۱) جب زبیر ابن عوام نے امیر الموٴمنین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد بیعت شکنی کی تو وہ اس کے لئے کبھی یہ عذر کرتے تھے کہ مجھے بیعت کے لئے مجبور کیا گیا تھا اور مجبوری کی بیعت کوئی بیعت نہیں ہوا کرتی اور کبھی یہ فرماتے تھے کہ یہ تو صرف دکھاوے کی بیعت تھی ۔میرا دل اس سے ہمنوا نہ تھا۔ گویا کہ وہ خود ہی اپنی زبان سے اپنے ظاہر و باطن کے مختلف ہونے کا اعتراف کر لیا کرتے تھے۔ لیکن یہ عذر ایسا ہی ہے جیسے کوئی اسلام لانے کے بعد منحرف ہو جائے اور سزا سے بچنے کے لئے یہ کہدے کہ میں نے صرف زبان سے اسلام قبول کیا تھا دل سے نہیں مانا تھا۔تو ظاہر ہے کہ یہ عذر مسموع نہیں ہو سکتا اور نہ اس ادعا کی کی بنا پر وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔ اگر انہیں یہ شبہ تھا کہ حضرت کے اشارے پر عثمان کا خون بہایا گیا ہے تو یہ شبہ اس وقت بھی دامن گیر ہونا چاہیئے تھا کہ جب اطاعت کے لئے حلف اٹھایا جا رہا تھا اور بیعت کے لئے ہاتھ بڑھ رہا تھا یا یہ کہ اب توقعات ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے اور کہیں اور سے امید کی جھلکیاں دکھائی دینے لگی تھیں۔
حضرت نے مختصر سی لفظوں میں ان کے دعویٰ کو یوں باطل کیا ہے کہ جب وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہاتھ سے بیعت کی تھی تو پھر جب تک بیعت کے توڑنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ انہیں بیعت پر برقرار رہنا چاہئے اور اگر بقول ان کے کہ دل اس سے ہم آہنگ نہ تھا تو اس کے لئے انہیں کوئی واضح ثبوت پیش کرنا چاہیئے۔ لیکن دلی کیفیات پر تو کوئی دلیل لائی نہیں جا سکتی تو وہ اس کے لئے دلیل کہاں سے لائیں گے اور دعویٰ بے دلیل قبول خرد نہیں۔
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
نهج البلاغة 6 7 8
استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: نهج البلاغة-
انتقل الى: