اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 نهج البلاغة 4 5

استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 618
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: نهج البلاغة 4 5   الثلاثاء يوليو 12, 2016 7:23 pm

بسم الله الرحمن الرحيم

و من خطبة له عليه السلام
بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وَ تَسَنَّمْتُمْ الْعَلْيَاءِ وَ بِنَا انفجرتم عَنِ السرار وُقِرَ سَمْعٌ لَمْ يَفْقَهِ الْوَاعِيَةَ وَ كَيْفَ يُرَاعِي النَّبْأَةَ مَنْ أَصَمَّتْهُ الصَّيْحَةُ ربط جَنَانٌ لَمْ يُفَارِقْهُ الْخَفَقَانُ مَا زِلْتُ أَنْتَظِرُ بِكُمْ عَوَاقِبَ الْغَدْرِ وَ أَتَوَسَّمُكُمْ بِحِلْيَةِ الْمُغْتَرِّينَ (حَتَّى) سَتَرَنِي عَنْكُمْ جِلْبَابُ الدِّينِ وَ بَصَّرَنِيكُمْ صِدْقُ النِّيَّةِ أَقَمْتُ لَكُمْ عَلَى سَنَنِ الْحَقِّ فِي جَوَادِّ الْمَضَلَّةِ حَيْثُ تَلْتَقُونَ وَ لَا دَلِيلَ وَ تَحْتَفِرُونَ وَ لَا تُمِيهُونَ الْيَوْمَ أُنْطِقُ لَكُمُ الْعَجْمَاءَ ذَاتَ الْبَيَانِ عَزَبَ رَأْيُ امْرِئٍ تَخَلَّفَ عَنِّي مَا شَكَكْتُ فِي الْحَقِّ مُذْ أُرِيتُهُ لَمْ يُوجِسْ مُوسَى عليه السلام خِيفَةً عَلَى نَفْسِهِ بَلْ أَشْفَقَ مِنْ غَلَبَةِ الْجُهَّالِ وَ دُوَلِ الضَّلَالِ الْيَوْمَ توافقنا عَلَى سَبِيلِ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ مَنْ وَثِقَ بِمَاءٍ لَمْ يَظْمَأْ

خطبہ 4
ہماری وجہ سے تم نے (گمراہی) کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی، اور رفعت و بلندی کی چوٹیوں قدم رکھا، اور ہمارے سبب سے اندھیری راتوں کو اندھیاریوں سے صبح (ہدایت) کے اجالوں میں آگئ ۔ وہ کان بہرے ہو جائیں جو چلانے والے کی چیخ پکار کو نہ سنیں، بھلا وہ کیونکر میری کمزور اور دھیمی آواز کو سن پائیں گے جو اللہ و رسول کی بلند بانگ صداؤں کے سننے سے بھی بہرے رہ چکے ہوں، ان دلوں کو سکون و قرار نصیب ہو، جن سے خوفِ خدا کی دھڑکنین الگ نہیں ہوتیں میں تم سے ہمیشہ عذر و بیوفائی ہی کے نتائج کا منتظر رہا اور فریب خوردہ لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ کے ساتھ تمہیں بھانپ لیا تھا۔ اگرچہ دین کی نقاب نے مجھ کو تم سے چھپائے رکھا۔ لیکن میرے نیت کے صدق و صفا نے تمہاری صورتیں مجھے دکھا دی تھیں۔ میں بھٹکانے والی راہوں میں تمہارے لئے جادئہ حق پر کھڑا تھا۔جہاں تم ملتے ملاتے تھے مگر کوئی راہ دکھانے والا نہ تھا۔ تم کنواں کھودتے تھے مگر پانی نہیں نکال سکتے تھے۔
آج میں نے اپنی اس خاموش زبان کو جس میں بڑی بیان کی قوت ہے، گویا کیا ہے۔ اس شخص کی رائے کے لئے دوری ہو جس نے مجھ سے کنارہ کشی کی۔ جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے کبھی اس میں شک و شبہ نہیں کیا۔ حضرت موسیٰ (۱) نے اپنی جان کے لئے خوف کا لحاظ کبھی نہیں کیا۔ بلکہ جاہلوں کے غلبہ اور گمراہی کے تسلط کا ڈر تھا (اسی طرح میری اب تک کی خاموشی کو سمجھنا چاہئیے) آج ہم اور تم حق و باطل کے دوراہے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ جسے پانی کا اطمینان ہو وہ پیاس نہیں محسوس کرتا۔ اسی طرح میری موجودگی میں تمہیں میری قدر نہیں۔

۱) حضرت موسیٰ (ع) کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب ان کے مقابلے میں جادو گر بلائے گئے اور انہوں نے رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینک کر اپنا سحر دکھایا تو آپ ڈرنے لگے۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے:"موسیٰ(ع) یوں محسوس ہوا کہ وہ دوڑ رہی ہیں جس سے وہ جی میں ڈرے۔ ہم نے کہا کہ موسیٰ (ع) تم کوئی اندیشہ نہ کرو ۔ یقینا تم ہی غالب رہو گے۔"
امیرالمومنین فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (ع) کے خوف کھانے کا باعث یہ نہیں تھا کہ وہ چونکہ رسیوں اور لاٹھیوں کی سانپ کی طرح دوڑتے دیکھ رہے تھے،اس لئے انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہو اور وہ اس سبب سے خائف ہو گئے ہوں بلکہ ان کے ڈرنے کا سبب یہ خیال تھا کہ کہیں دنیا والے ان شعبدہ بازیوں سے متاثر ہو کر گمراہی میں نہ پڑ جائیں اور ان نظر بندیوں سے باطل کی بنیادیں مستحکم نہ ہو جائیں۔ چنانچہ موسیٰ (ع) کو یہ کہ ڈھارس نہیں دی جاتی کہ تمہاری جان محفوط ہے ۔ بلکہ یہ کہا گیا کہ تم ہی غالب رہو گے۔ اور تمہارا ہی بول بالا ہو گا۔ چونکہ انہیں اندیشہٴ حق کے دب جانے اور باطل کے ابھر آنے کا تھا نہ اپنی جان کے جانے کا کہ حق کی فتح و کامرانی کے بجائے حفظِ جان کی انہیں تسلی دی جاتی۔حضرت فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خوف یہی ہے کہ کہیں دنیا والے ان لوگوں (طلحہ و زبیر وغیرہ) کی فریب کاریوں کے پھندے میں نہ پھنس جائیں اور حق سے منہ توڑ کر ضلالت و گمراہی میں نہ جا پڑیں۔ ورنہ مجھے اپنی جان کی کبھی پرواہ نہیں ہوئی۔

بسم الله الرحمن الرحيم

و من كلام له عليه السلام لما قبض رسول الله صلى الله عليه و اله و خاطبه العباس و أبو سفيان بن حرب في أن يبايعا له بالخلافة
أَيُّهَا النَّاسُ شُقُّوا أَمْوَاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجَاةِ وَ عَرِّجُوا عَنْ طَرِيقِ الْمُنَافَرَةِ وَ ضَعُوا تِيجَانَ الْمُفَاخَرَةِ أَفْلَحَ مَنْ نَهَضَ بِجَنَاحٍ أَوِ اسْتَسْلَمَ فَأَرَاحَ مَاءٌ آجن وَ لُقْمَةٌ يغص بِهَا آكِلُهَا وَ مُجْتَنِي الثَّمَرَةِ لِغَيْرِ وَقْتِ إِينَاعِهَا كَالزَّارِعِ بِغَيْرِ أَرْضِهِ فَإِنْ أَقُلْ يَقُولُوا حَرَصَ عَلَى الْمُلْكِ وَ إِنْ أَسْكُتْ يَقُولُوا جَزِعَ مِنَ الْمَوْتِ هَيْهَاتَ بَعْدَ اللَّتَيَّا وَ الَّتِي وَ اللَّهِ لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّهِ بَلِ انْدَمَجْتُ عَلَى مَكْنُونِ عِلْمٍ لَوْ بُحْتُ بِهِ لَاضْطَرَبْتُمْ اضْطِرَابَ الْأَرْشِيَةِ فِي الطَّوِيِّ الْبَعِيدَةِ

خطبہ 5
جب رسول اللہ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو عباس اور ابو سفیان ابن حرب(۱) نے آپ سے عرض کیا کہ: ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں، جس پر حضرت نے فرمایا:

اے لوگو! فتنہ و فساد کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیر کر اپنے کو نکال لے جاؤ، تفرقہ و انتشار کی راہوں سے اپنا رخ موڑ لو، فخر و مباہات کے تاج اتار ڈالو۔ صحیح طریقہ عمل اختیار کرنے میں۔ کامیاب وہ ہے جو اٹھے تو پر وبال کے ساتھ اٹھے اور نہیں تو (اقتدار کی کرسی) دوسروں کے لئے چھوڑ بیٹھے اور اس طرح خلق خدا کو بد امنی سے راحت میں رکھے۔ (اس وقت طلبِ خلافت کے لئے کھڑا ہونا) یہ ایک گندلا پانی اور ایسا لقمہ ہے جو کھانے والے کے گلو گیر ہو کر رہے گا۔ پھلوں کو ان کے پکنے سے پہلے چننے ولا ایسا ہے جیسے دوسروں کی زمین میں کاشت کرنے والا۔ اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے۔ افسوس اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں۔ خدا کی قسم ابو طالب (۲) کا بیٹا موت سے اتنا مانوس ہے کہ بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا۔ البتہ ایک علم پوشیدہ میرے سینے کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے کہ اسے ظاہر کردوں تو تم اسی طرح پیچ و تاب کھانے لگو گے جس طرح گہرے کنوؤں میں رسیاں لرزتی اور تھرتھراتی ہیں۔

۱) جب پیغمبر اکرم کی وفات ہوئی ہے تو ابو سفیان مدینہ میں موجود نہ تھا۔ واپس آرہا تھا کہ راستہ میں اس المناک حادثہ کی اطلاعی ملی۔ فوراً پوچھنے لگا کہ مسلمانوں کی امارت و قیادت کس کو ملی ہے؟ اسے بتایا گیا کہ لوگوں نے ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔ یہ سن کر عرب کا مانا ہوا فتنہ پرداز سونچ میں پڑ گیا اور آخر ایک تجویز لے کر عباس ابن عبدالمطلب کے پاس آیا اور کہا کہ دیکھو ان لوگوں نے دھاندلی مچا کر خلافت ایک تیمی کے حوالے کر دی اور بنی ہاشم کو ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا اور یہ اپنے بعد بنی عدی کے ایک درشت خود تندمزاج کو ہمارے سروں پر مسلط کر جائے گا۔ چلو علی ابن ِ ابی طالب سے کہیں کہ وہ گھر کا گوشہ چھوڑیں اور اپنا حق لینے کے لیے میدان میں اتر آئیں۔ چنانچہ وہ عباس کو ہمراہ لے کر حضرت کے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہاتھ بڑھائیں، میں آپ کی بیعت کرتا ہوں،اور کوئی مخالفت کے لئے اٹھا تو میں مدینہ کے گلی کوچوں کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں گا۔ امیرالمومنین کے لیے یہ انتہائی نازک مرحلہ تھا۔ وہ اپنے کو پیغمبر کا صحیح وارث و جانشین سمجھتے تھے اور ابو سفیان ایسا جتھے قبیلے والا امداد کے لیے آمادہ کھڑا تھا۔ صرف ایک اشارہ کافی تھا کہ جنگ کے شعلے بھڑکنے لگتے، مگر امیر الموٴمنین(ع) کے تدبر و اصابت رائے نے مسلمانوں کو فتنہ سے بچا لیا اور آپ کی دور رس نظروں نے بھانپ لیا کہ یہ قبائلی تعصب اور نسلی امتیاز کو اُبھار کر آپس میں لڑوانا چاہتا ہے تاکہ اسلام میں ایک ایسا زلزلہ آئے جو اس کی بنیاد تک کو ہلا دے، لہذا آپ نے اس کی رائے کو ٹھکرا کر اسے سختی سے جھڑکا اور اس موقع پر یہ کلمات ارشاد فرمائے جن میں لوگوں کو فتہ انگیزیوں اور بیجا سربلندیوں سے روکا ہے اور اپنا موقف یہ بتایا ہے کہ میرے لئے دو ہی صورتیں ہیں یا تو جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہوں یا اپنے حق سے دستبردار ہو کر ایک گوشہ میں چپکے سے بیٹھ جاؤں۔ اگر جنگ کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو کوئی یار و مدد گار دکھائی نہیں دیتا کہ ان ابھرنے والے فتنوں کو دبا سکوں۔ اب یہی چارہٴ کار ہے کہ خاموشی سے وقت کا انتظار کروں یہاں تک کہ حالات سازگار ہوں۔
اس موقع پر امیرالموٴمنین کی خاموشی مصلحت بینی و دُور اندیشی کی آئینہ دار تھی، کیونکہ ان حالات میں اگر مدینہ مرکز جنگ بن جاتا تو اس کی آگ تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ۔مہاجرین و انصار میں جس رنجش و چپقلش کی ابتداء ہو چکی تھی وہ بڑھ کر اپنی انتہا کو پہنچتی۔ منافقین کی ریشہ دوانیاں اپنا کام کرتیں اور اسلام کی کشتی ایسے گرداب میں جا پڑتی کہ اس کا سنبھلنا مشکل ہو جاتا ۔ اس لئے امیرالمونین (ع) نے دکھ سہے، کڑیاں جھیلیں ،مگر ہاتھوں کو جنبش نہیں دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ پیغمبر نے مکہ کی زندگی میں ہر طرح کی تکلیفیں اور زحمتیں برداشت کیں، مگر صبر و استقلال کو چھوڑ کر لڑنے الجھنے کے لیے تیار نہ ہوئے، چونکہ آپ جانتے تھے کہ اگر اس وقت جنگ چھڑ گئی تو اسلام کے پھلنے پھولنے کی راہیں بند ہو جائیں گی، البتہ جب پشت پر اتنے اعوان و انصار ہو لیے کہ جو کفر کی طغیانیوں کو دبانے اور فتنوں کو کچلنے کی طاقت رکھتے تھے تو دشمن کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اسی طرح امیرالموٴمنین(ع) پیغمبر کی سیرت کو مشعل راہ بناتے ہوئے تلوار کی قوت اور دست و بازو کے زور کا مظاہرہ نہیں کرتے،چونکہ آپ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کے مقابلہ میں بے یار و مدد گار اٹھ کھڑا ہونا کامرانی و کامیابی کے بجائے شورش انگیزی و زیاں کاری کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے اس موقع کے لحاظ سے طلب ِ امارت کو ایک گندلے پانی اور گلے میں پھنس جانے والے لقمہ سے تشبہہ دی،چنانچہ جن لوگوں نے چھینا جھپٹی کر کے اس لقمہ کو چھین لیا تھا اور ٹھونس کر اسے نگل لینا چاہا، ان کے گلے میں بھی یہ لقمہ اٹک کر رہ گیا نہ نگلتے بنتی تھی اور نہ اگلتے بنتی تھی۔یعنی نہ تو وہ اسے سنبھال سکتے تھے جیسا کہ ان لغزشوں سے ظاہر ہے جو اسلامی احکام کے سلسلے میں کھائی جاتی تھیں اور نہ یہ پھندا اپنے گلے سے اتارنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ پھر اسی مطلب کو دوسرے لفظوں میں یوں بیان فرمایا ہے کہ اگر میں ان ناساز گار حالات میں خلافت کے ثمر نارسیدہ کو توڑنے کی کوشش کرتا تو اس سے باغ بھی اجڑتا اور میرے ہاتھ بھی کچھ نہ آتا۔ جیسے کہ ان لوگوں کی حالت ہے کہ غیر کی زمین میں کھیتی تو کر بیٹھے مگر نہ اس کی حفاظت کر سکے نہ جانوروں سے اسے بچا سکے۔ نہ وقت پر پانی دے سکے اور نہ اس سے کوئی جنس حاصل کر سکے، بلکہ ان لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ اگر کہتا ہوں کہ اس زمین کو خالی کرو تاکہ اس کا مالک خود کاشت کرے اور خود نگہداشت کرے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کتنے حریص اور لالچی ہیں اور چپ رہتے ہیں تو یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے ہیں۔ بھلا یہ تو بتائیں کہ میں کس موقعہ پر ڈرا اور کب جان بچا کر میدان سے بھاگا، جبکہ ہر چھوٹا بڑا معرکہ میری بے جگری کا شاہد اور میری جراٴت و ہمت کا گواہ ہے جو تلواروں سے کھیلے اور پہاڑوں سے ٹکرائے وہ موت سے نہیں ڈرا کرتا۔ میں تو موت سے اتنا مانوس ہوں کہ بچہ ماں کی چھاتی سے بھی اتنا مانوس نہیں ہوتا۔ سنو! میرے چپ رہنے کی وجہ سے وہ علم ہے جو پیغمبر نے میرے سینے میں ودیعت فرمایا ہے۔ اگر ابھی سے اسے ظاہر کردوں تو تم سراسیمہ و مضطرب ہو جاؤ گئے، کچھ دن گزرنے دو تو تم خود میری خاموشی کی وجہ جان لو گے اور دیکھ لو گے کہ اسلام کے نام پر کیسے کیسے لوگ اس مسند پر آئیں گے اور کیا کیا تباہیاں مچائیں گے۔ میری خاموشی کا یہی سبب ہے کہ یہ ہو رکر رہے گا، ورنہ بے وجہ خاموشی نہیں۔
"خموشی معنیٴ دارد کہ در گفتن نمی آید"
۲) موت کے متعلق فرماتے ہیں کہ مجھے اتنی محبوب ہے کہ بچے اپنی ماں کی آغوش میں اپنے سر چشمہٴ غذا کی طرف ہمک کر بڑھنا اتنا محبوب نہیں ہوتا، کیونکہ ماں کی چھاتی سے بچے کا انس ایک طبعی تقاضے کے زیر ِ اثر ہوتا ہے اور طبعی تقاضے سن کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، چنانچہ زمانہ رضاعت کا محدود عرصہ گزارنے کے بعد جب اس کی طبیعت پلٹا کھاتی ہے تو جس سے مانوس رہتا ہے پھر اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا اور نفرت سے منہ پھیر لیتا ہے، لیکن لقائے پروردگار سے انبیاء اولیاء کا انس عقلی و روحانی ہوتا ہے اور عقلی و روحانی تقاضے بدلا نہیں کرتے اور ان میں ضعف و انحطاط آیا کرتا ہے، چونکہ موت لقائے پروردگار کا ذریعہ اور اس منزل کا پہلا زینہ ہے۔ اس لیے موت سے بھی ان کی شیفتگی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اس کی سختیاں ان کے لیے راحت کا سازو سامان اور اس کی تلخیاں ان کے کام و دہن کے لیے لذت اندوزی کا سرو سامان بن جایا کرتی ہیں اور اس سے ان کا انس ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ پیاسے کا کنویں سے اور بھٹکے ہوئے مسافر کا منزل سے، چنانچہ امیرالمومنین(ع) جب ابن ملجم کے قاتلانہ حملے سے مجروح ہوئے تو فرمایا کہ میں موت کا چشمہ لگاتار ڈھونڈ رہا تھا کہ اس کے گھاٹ پر آپہنچا اور اسی منزل کی طلب و تلاش میں تھا کہ اسے پالیا اور نیکو کاروں کے لیے اللہ کے یہاں کی نعمتوں سے بڑھ چڑھ کر کیا ہو سکتا ہے اور پیغمبر اکرم کا بھی ارشاد ہے کہ:"لیس للمومن راحة ودن لقاء اللہ"۔ "لقائے ربانی کے علاوہ مومن کہیں پر راحت کا سرو سامان نہیں ہے"۔
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
نهج البلاغة 4 5
استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: نهج البلاغة-
انتقل الى: