اهل البيت

اسلامي احاديث خطب ادعية
 
الرئيسيةاليوميةس .و .جبحـثالأعضاءالمجموعاتالتسجيلدخول

شاطر | 
 

 نهج البلاغة 3

استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي اذهب الى الأسفل 
كاتب الموضوعرسالة
Admin
Admin
avatar

المساهمات : 618
تاريخ التسجيل : 21/04/2016

مُساهمةموضوع: نهج البلاغة 3   الثلاثاء يوليو 12, 2016 7:20 pm

بسم الله الرحمن الرحيم

خطبہ 3
یہ خطبہ شقشقیہ (۱) کے نام سے مشہور ہے:

خدا کی قسم! فرزند ابو قحافہ (۲) نے پیراہنِ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیل کا ہوتا ہے میں وہ (کوہ ِ بلند ہوں) جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پَر نہیں مار سکتا۔ (اس کے باوجود) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کرلی اور سونچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں جس میں سنِ رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اور مومن اس میں جد و جہد کرتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرینِ عقل نظر آیا۔ لہذا میں نے صبر کیا۔ حالانکہ آنکھوں میں (غبار اندوہ کی) خلش تھی اور حقل میں (غم و رنج) پھندے لگے ہوئے تھے۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابنِ خطاب کر دے گیا۔ (پھر حضرت نے بطورِ تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھاSmile
"کہاں یہ دن جو ناقہ کے پالان پر کٹتا ہے اور کہاں وہ دن جو حیان برادر جابر کی صحبت میں گزرتا تھا"(۳)۔ تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرتا گیا۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس نے خلافت کو ایک سخت و درشت محل میں رکھ دیا، جس کے چرکے کاری تھے۔ جس کو چھو کر بھی درشتی محسوس ہوتی تھی۔ جہاں بات بات میں ٹھوکر کھانا اور پھر عذر کرنا تھا۔ جس کا اس سے سابقہ پڑے ہو ایسا ہے جیسے سرکش اونٹنی کو سوار کہ اگر مہار کھینچتا ہے تو (اس کی منہ زوری سے) اس کی ناک کا درمیانی حصہ ہی شگافتہ ہوا جاتا ہے جس کے بعد مہار دینا ہی ناممکن ہو جائے گا اور اگر باگ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ مہلکوں میں پڑ جائے گا۔ اس کی وجہ سے بقائے ایزد کی قسم! لوگ کجروی، سرکشی، متلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔ میں نے اس طویل مدت اور شدید مصیبت پر صبر کیا۔ یہاں تک کہ دوسرا بھی اپنی راہ لگا، اور خلافت (۴) کو ایک جماعت میں محدود کر گیا۔ اور مجھے بھی اس جماعت کا ایک فرد خیال کیا۔ اے اللہ مجھے اس شوریٰ سے کیا لگاؤ؟ ان میں کے سب سے پہلے کے مقابلہ ہی میں میرے استحقاق و فضیلت میں کب شک تھا جو اب ان لوگوں میں میں بھی شامل کر لیا گیا ہوں۔ مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ایسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں(یعنی حتی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں)(۵)۔ ان میں سے ایک شخص تو کینہ و عناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہو گیا اور دوسرا دامادی اور بعض ناگفتہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا۔ یہاں تک کہ اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو اللہ کے مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصلِ ربیع کا چارہ چرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بَل کھُل گئے اور اس کی بداعمالیوں نے اسی کا کام تمام کر دیا۔ اور شکم پُری نے اسے منہ کے بل گرا دیا۔
اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کر دیا جو میری جانب بجو کی گردن کے بال کی طرح ہر طرف سے لگاتار بڑھ رہا تھا یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن (ع) اور حسین (ع) کچلے جا رہے تھے اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کر لیا۔ گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ:"یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ہے جو دنیا میں نہ (بے جا) بلندی چاہتے ہیں نہ فساد پھیلاتے ہیں۔ اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے"۔ ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا۔ لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اور اس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا۔
دیکھو! اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں۔ اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پُر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم پانی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتنا پاتے۔ (لوگوں کا بیان ہے کہ جب حضرت خطبہ پڑھتے ہوئے اس مقام تک پہنچے تو ایک عراقی باشندہ آگے بڑھا اور ایک نوشتہ حضرت سامنے پیش کیا، آپ اسے دیکھنے لگے۔ جب فارغ ہوئے تو ابنِ عباس نے کہا: یا امیرالموٴمنین (ع) آپ نے جہاں سے خطبہ چھوڑا تھا وہیں سے اس کا سلسلہ آگے بڑھائیں! حضرت نے فرمایا کہ):افسوس ابن عباس، یہ تو "شقشقه" (گوشت کا وہ نرم لوتھڑا، جو اونٹ کے منہ سے مستی و ہیجان کے وقت نکلتا ہے) تھا جو ابھر کر دب گیا!
(ابن عباس کہتے تھے کہ: مجھے کسی کلام کے متعلق اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس کلام کے متعلق اس بنا پر ہوا کہ حضرت وہاں تک نہ پہنچ سکے جہاں تک وہ پہنچنا چاہتے تھے۔)
علامہ رضی کہتے ہیں کہ: خطبے کے ان الفاظ کو "كراكب الصعبة ان اشنق لها خرم و ان اسلس لها تقحّم" سے مراد یہ ہے کہ سوار جب مہار کھینچنے میں ناقہ پر سختی کرتا ہے تو اس کھینچا تانی میں اس کی ناک زخمی ہوئی جاتی ہے، اور اگر اسکی سرکشی کے باوجود باگ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اسے کہیں نہ کہیں گرا دیگی اور اس کے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ "اشنق الناقة" اس وقت بولا جاتا ہے جب سوار باگوں کو کھینچ کر اس کے سر کو اوپر کی طرف اٹھائے، اور اسی طرح "اشنق الناقة" استعمال ہوتا ہے ۔ اس کیفیت کو "شنقها" سے بھی تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ ابن سکیت نے اصلاح المنطق میں اس کا ذکر کیا ہے۔ حضرت نے "اشنقھا" کے بجائے "اشنق لھا" استعمال کیا ہے، چونکہ آپ نے یہ لفظ "اسلس لھا" کے بالمقابل، استعمال کیا ہے۔ اور سلاست اسی وقت باقی رہ سکتی تھی جب ان دونوں لفظوں کا نہج استعمال ایک ہو۔ گویا حضرت"ان اشنق لھا"کو "ان رفع لھا" کی جگہ استعمال کیا ہے یعنی اس کی باگیں اوپر کی طرف اٹھا کر روک رکھے۔

۱) یہ خطبہ، خطبہ شقشقیہ کے نام سے موسوم اور امیرالموٴمنین (علیہ السلام) کے مشہور ترین خطبات میں سے ہے۔ جسے آپ نے مقامِ وجہ میں ارشاد فرمایا۔ اگرچہ بعض متعصب و تنگ نظر افراد نے اس کے کلام علی ہونے سے انکار کیا ہے اور اسے سید رضی کی طرف منسوب کر کے ان کے مسلمہ امانت و دیانت پر حرف رکھا ہے مگر حقائق پسند علماء نے اس کی صحت سے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ انکار کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔ جب کہ خلافت کے معاملہ میں امیرالموٴمنین کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے کہ اس قسم کے تعریضات کو بعدی سمجھا جائے اور پھر جن واقعات کی طرف اس خطبہ میں ارشادات کئے گئے ہیں۔ تاریخ انہیں اپنے دامن میں محفوط کئے ہوئے ہے۔ اور بے کم و کاست ایک ایک حرف کی تصدیق اور ایک ایک جملہ کی ہمنوائی کرتی ہے تو جن واقعات کو موّرخ کی زبانِ قم بیان کر سکتی ہے وہی واقعات امیر الموٴمنین کی نوک زبان پر آجائیں تو اس سے انکار کی کیا وجہ اور پیغمبر کے بعد جن نامساعد حالات سے آپ کو دو چار ہونا پڑا۔ اگر ان کی یاد سے کام و دہن تلخ ہو جائیں تو اس میں حیرت و استعجاب ہی کیا ہے؟ بے شک اس سے بعض شخصیتوں کے وقار کو صدمہ پہنچتا ہے اور ان سے عقیدت و ارادت کو بھی دھچکا لگتا ہے۔ مگر اس کے کلام امیر الموٴمنین ہونے سے انکار کر دینے سے اسے سنبھالا نہیں جا سکتا۔ جب تک اصل واقعات کا تجزیہ کر کے حقیقت کی نقاب کشائی نہ کی جائے ۔ ورنہ محض اس بنا پر کہ اس میں چونکہ بعض افراد کی تنقیص ہے اس کے کلام امیرالموٴمنین ہونے سے انکار کر دینا کوئی وزن نہیں رکھتا۔ جب کہ اس قسم کے تعریضات دوسرے ادباء و مورّخین نے بھی نقل کئے ہیں۔ چنانچہ عمرو ابنِ بحر جاحظ نے امیر المومنین کے ایک خطبے کے یہ الفاط بھی درج کئے ہیں جو خطبہ شقشقیہ کی کسی نکتہ چینی سے وزن میں کم نہیں ہیں۔
"وہ دونوں گذر گئے اور تیسرا کوے کے مانند اٹھ کھڑا ہوا۔ جس کی ہمتیں پیٹ تک محدود تھیں۔ کاش اس کے دونوں پَر کتر دیتے ہوتے اور اس کا سر کاٹ دیا ہوتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا۔"
لہذا یہ خیال کہ یہ سید رضی کا گڑھا ہوا ہے دُور از حقیقت اور عصبیت و جنبہ داری کا نتیجہ ہے۔ اور اگر یہ انکار کسی تحقیق و کاہش کا نتیجہ ہے تو اسے پیش کرنا چاہئے ورنہ اس قسم کی خوش فہمیوں میں پڑے رہنے سے حقائق اپنا رخ نہیں بدلا کرتے اور نہ ناک بھوں چڑھانے سے قطعی دلائل کا زور دُب سکتا ہے ۔
اب ہم ان علماء محدثین کی شہادتیں پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس کے کلام ِامیرالموٴمنین ہونے کی صراحت کی ہے تاکہ اس کی تاریخی اہمیت واضح ہو جائے۔ ان علماء میں کچھ وہ ہیں جن کو دور سید رضی سے پیشتر تھا اور کچھ ان کے ہم عصر ہیں اور کچھ وہ ہیں جو ان کے بعد آئے اور اپنے اپنے سلسلہٴ سند سے اسے روایت کیا ہے ۔
۱۔ ابن ابی الحدید معتزلی تحریر کرتے ہیں کہ ہم سے ہمارے استاد مصدق ابن شبیب واسطی نے فرمایا کہ میں اس خطبہ کو شیخ ابو محمد عبدالہ ابن احمد سے کہ جو ابنِ خشاب کے نام سے مشہور ہیں پڑھا اور جب اس مقام پر پہنچا کہ (جہاں ابنِ عباس نے اس خطبہ کے نامکمل رہ جانے پر اظہار افسوس کیا ہے) تو ابنِ خشاب نے مجھ سے کہا کہ اگر میں ابنِ عباس سے افسوس کے کلمات سنتا تو ان سے ضرور کہتا کہ کیا آپ کے چچیرے بھائی کے جی میں ابھی کوئی حسرت رہ گئی ہے جو انہوں نے پوری نہ کی ہو۔ انہوں نے تو رسول کے علاوہ نہ اگلوں کو چھوڑا ہے نہ پچھلوں کو۔ جو کہنا چاہتے تھے سب کہہ ڈالا۔ اب افسوس کا ہے کا، کہ وہ اتنا نہ کہہ سکے جتنا کہنا چاہتے تھے۔ مصدق کہتے ہیں کہ ابن خشاب بڑے زندہ دل اور خوش مذاق تھے۔ میں نے کہا کیا آپ کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ گڑھا ہوا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم مجھے تو اس کے کلام امیر الموٴمنین ہونے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا یہ کہ تم مصداق ابنِ شبیب ہو۔ میں نے کہا کہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ رضی کا کلام ہے۔ فرمایا کہ بھلا رضی یا کسی اور میں یہ دم کہاں اور یہ انداز بیان کہاں۔ ہم نے رضی کی تحریریں دیکھی ہیں اور ان کے طرزِ نگارش و اندازِ تحریر سے آگاہ ہیں۔ کہیں بھی ان کا کلام سے میل نہیں کھاتا اور میں تو اسے ان کتابوں میں دیکھ چکا ہوں کہ جو سید رضی کے پیدا ہونے سے دو سو برس پہلے لکھی ہوئی ہیں، اور جانی پہنچانی ہوئی تحریروں میں میری نظر سے گزر چکاہے کہ جن کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ کن علماء اور کن ادباء کی لکھی ہوئی ہیں۔اس وقت رضی تو کیا ! ان کے باپ ابو احمد نقیب بھی پیدا نہ ہوئے تھے۔
٢۔ پھر تحریر کرتے ہیں کہ میں نے اس خطبہ کو اپنے شیخ ابوالقاسم بلخی (متوفی ۳۱۷ ئھ) کی تصنیفات میں دیکھا ہے یہ مقتدر باللہ کے عہدِ حکومت میں بغداد کی جماعت معتزلہ کے امام تھے اور مقتدر کا دورِ رضی کے پیدا ہونے سے بہت پہلے تھا۔
۳۔ پھر تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے اس خطبہ کو ابو جعفر ابنِ قبہ کی کتاب الانصاف میں دیکھا ہے ۔ یہ ابو القاسم بلخی کے شاگرد اور فرقہ امامیہ کے متکلمین میں سے تھے۔ (شرح ابن ابی الحدید جلد ۱ ص ۶۹)
۴۔ ابن میثم بحرانی اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس خطبہ کا ایک نسخہ ایسا دیکھا ہے جس پر مقتدر باللہ کے وزیر ابو الحسن علی ابن محمد ابن الفرات (متوفی ۳۱۲ ئھ)کی تحریر تھی۔
۵۔ علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) نے شیخ قطب الدین راوندی کی تصنیف منہاج البراعہ فی شرح نہج البلاغہ سے اس سلسلہ بند کو نقل کیا ہے۔
حافظ ابو بکر ابن مروویہ اصفہانی نے سلیمان ابن احمد طبرانی سے اس نے احمد ابنِ علی ابار سے اور اس نے اسحاق ابن سعید ابو سلمہ ومشقی سے اور اس نے خلید ابن علج سے اور اس نے عطا ابن رباح سے اور اس نے ابن عباس سے اسے روایت کیا ہے ۔(بحار الانوار، ج ۸ ص ۱۶۱) ۶۔ علامہ مجلسی نے اس کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ یہ خطبہ ابو علی جبائی (متوفی ۳۰۳ ء ھ کے مصنفات میں بھی ہے ۔
۷۔ علامہ مجلسی نے اسی استناد کے سلسلے میں تحریر کیا ہے ۔
قاضی عبدالجبار جو متعصب معتزلی تھے۔ اپنی کتاب مغنی میں اس خبطہ کے بعض کلمات کی توجیہہ و تاویل کرتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے خلفا پر کوئی زد نہیں پڑتی مگر اس کے کلام امیر الموٴمنین ہونے سے انکار نہیں کرتے۔
۸۔ ابو جعفر محمد ابن علی ابن بایویہ متوفی ۳۸۱ئھ تحریر فرماتے ہیں:
ہم سے محمد بن ابراہیم ابنِ اسحاق طالقانی نے بیان کیا۔اس نے کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز ابن یحیٰ جلودی نے بیان کیا اور اس نے کہا کہ مجھ سے ابو عبداللہ ابن عمار بن خالد نے بیان کیا اور اس نے کہا کہ مجھ سے یحیٰ ابن عبدالحمید حمانی نے بیان کیا اور اس نے کہا کہ مجھ سے عیسیٰ ابنِ راشد نے اور اس نے علی ابن حذیفہ سے اور اس نے عکرمہ سے اور اس نے ابنِ عباس سے روایت کیا۔
۹۔ پھر ابنِ بابویہ اس سلسلہ سند کو درج کرتے ہیں ۔
ہم سے محمد ابنِ علی ماجیلویہ نے اس نے اپنے چچا محمد ابن ابی القاسم سے اس نے احمد ابن ابی عبداللہ برقی سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے ابن عمیر سے اس نے ابان ابن عثمان سے اس نے ابان ابن تغلب اس نے عکرمہ سے اور اس نے ابنِ عباس سے اسے رویت کیا ہے۔
۱۰۔ حسن ابن عبداللہ ابن سعید العسکری ۳۸۲ء ھ نے کہ جو اکابر علمائے اہل سنت سے ہیں اس خطبہ کی توضیح و تشریح کی ہے جسے ابنِ بابویہ نے علل اشرائع اور معانی الاخبار میں درج ہے۔
۱۱۔ سید نعمت اللہ جزائری (علیہ الرحمہ) تحریر فرماتے ہیں:
صاحب کتاب الغارات و ابو اسحاق ثقفی نے اپنے سلسلہ سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔ اس کتاب کی تصنیف سے فراغت کی۔تاریخ ۱۳ شوال ۳۵۵ ئھ روز سہ شنبہ ہے اور اسی سال سید مرتضی موسوی پیدا ہوئے۔ اور یہ اپنے بھائی سید رضی سے عمر میں بڑے تھے۔
۱٢۔ سید علی ابن طاؤس (علیہ الرحمہ) نے کتاب الغارات سے اس سلسہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد نے اور اس نے حسنِ ابنِ علی زعفرانی سے اور اس نے محمد ابن زکریا قلابی سے اور اس نے یعقوب ابن جعفر ابن ِ سلیمان سے اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے جد سے اور اس نے ابنِ عباس سے روایت کیا ہے ۔
۱۳۔ شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی متوفی ۴۶۰ ئھ تحریر فرماتے ہیں:
وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حفار نے اور اس نے ابو القاسم و عیلی سے اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے بھائی وعبل سے اور اس نے محمد ابن سلامہ شامی سے اور اس نے زر راہ ابن اعین سے اور اس نے اوب جعفر محمد ابن علی سے اور انہوں نے ابنِ عباسی سے اسے روایت کیا ہے ۔
۱۴۔ شیخ مفید متوفی ۴۱۶ ئھ کو جو جناب سید رضی کے استاد تھے۔ اس خطبہ کے سلسلہ سند کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
رواة کی ایک جماعت نے مختلف سلسلوں سے اس کو ابن عباس سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں مقامِ رحبہ میں امیرالمومنین کے پاس موجود تھا کہ خلافت کا اور ان لوگوں کہ جو آپ سے پہلے خلیفہ گزرے تھے ذکر چھیڑا تو آپ نے آہ بھری اور یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔
۱۵۔ علم الہدایٰ سید مرتضی کہ جو سید مرتضی کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب شافی ۳۹۲ پر اسے درج کیا ہے۔
۱۶۔ ابو منصور طبرسی ۺ تحریر کرتے ہیں:
رواة کی ایک جماعت نے مختلف سلسلوں سےاس کو ابنِ عباس سے روائت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں مقامِ رحبہ میں امیرالمومنین کے پاس موجود تھا کہ خلافت کا اور ان لوگوں کا کہ جو آپ سے پہلے خلیفہ گزرے تھے ذکر چھیڑا تو آپ نے آہ بھری اور یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔
۱۷۔ عبدالرحمن ابن جوزی تحریر کرتے ہیں:
ہمارے شیخ ابو القاسم انباری نے اپنے سلسلہ سند سے کہ جو ابن عباس تک منتہی ہوتا ہے۔ اس خطبہ کو ان ہم سے نقل کیا فرمایا کہ جب امیرالمومنین(ع) کی بیعت ہو چکی تو آپ منبر پر رونق افروز تھے کہ ایک شخص نے کہا کہ امیرالمومنین آپ خاموش کیوں بیٹھے رہے تو آپ نے برجستہ یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔
۱۸۔ عبدالرحمن ابن جوزی تحریر کرتے ہیں:
ہمارے شیخ ابوالقاسم انباری نے اپنے سلسلہ سند سے کہ جو ابن عباس تک منتہی ہوتا ہے۔ اس خطبہ کو ان ہم سے نقل کیا فرمایا کہ جب امیرالموٴمنین(ع) کی بیعت ہو چکی تو آپ منبر پر رونق افروز تھے کہ ایک شخص نے کہا کہ امیرالموٴمنین آپ خاموش کیوں بیٹھے رہے۔ تو آپ نے برجستہ یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
۱۹۔ قاضی احمد شہاب خفاجی استشہاد کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:
امیر الموٴمنین علی (رضی اللہ عنہ) کے کلام میں وارد ہوا ہے کہ تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے دستبردار ہونا چاہتا تھا، لیکن مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسروں کے لئے مضبوط کرتا گیا۔
٢۰۔ شیخ علاوالدولہ احمد ابن محمد السمنانی تحریر کرتے ہیں:
امیر الموٴمنین سید العارفین علی (علیہ السلام) نے اپنے ایک درخشاں خطبے میں فرمایا ہے "تلک شقشقة ھدرت"۔
٢۱۔ ابوالفضل میدانی نے لفظ شقشقیہ کے ذیل میں لکھا ہے:
امیرالموٴمنین علی کا ایک خطبہ، خطبہٴ شقشقیہ کے نام سے مشہور ہے ۔
٢٢۔ نہایہ میں ابنِ اچیر جزری نے پندرہ مقامات پر اس خطبہ کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے اس کے کلام امیرالموٴمنین ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
٢۳۔ شیخ محمد طاہر پٹنی نے مجمع بحارالانوار میں انہی الفظ کے معانی لکھتے ہوئے "منہ حدیث علی" کہہ کر اس کے کلام امیرالموٴمنین ہونے کی توثیق کی ہے۔
٢۴۔ ابو الفضل ابن منظور نے لسان العرب جلد ۱۲ صفحہ ۵۴ میں فی "حدیث علی نی خطبة له تلک شقشقة ھدرت ثم قرت" کہہ کر اس کے کلام علی ابن ابی طالب ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
٢۵۔ فیروز آبادی نے قاموس میں لفظ شقشقہ کے ذیل میں لکھا ہے:
خطبہ شقشقیہ حضرت علی(ع) کا کلام ہے، جسے شقشقیہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب ابنِ عباس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اپنے کلام کا سلسلہ وہاں سے شروع کریں جہاں تک آپ نے اسے پہنچایا تھا۔ تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس اب کہاں وہ تو ایک شقشقہ یعنی ایک ولولہ و جوش تھا جو اُبھرا اور تھم گیا۔
٢۶۔ صاحب منتہی الارت تحریر کرتے ہیں:"خطبہ شقشقیہ علوی است۔ منسُوب بہ علی کرم اللہ وجههْ"۔
٢۷۔ مفتی مصر شیخ محمد عبدہ نے اسے کلامِ امیرالموٴمنین تسلیم کرتے ہوئے اس کی شرح کی ہے۔
٢۸۔ محمد محی الدین عبدالحمید فی کلیتہ اللغتہ العربیہ (جامع الازہر)نے نہج البلاغہ پر حواشی تحریر کئے ہیں اور اس کے پہلے ایک مقدمہ لکھا ہے جس میں تمام ایسے خطبوں کو جن میں تعریضات پائے جاتے ہیں۔ امیرالموٴمنین کا کلام تسلیم کیا ہے۔ ان مستند شہادتوں اور ناقابلِ انکار گواہیوں کے بعد کی اس کی گنجائش ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ امیرالموٴمنین کا کلام نہیں اور سید رضی نے خود گھڑ لیا ہے ۔
۲) امیرالموٴمنین (علیہ السلام) نے حضرت ابو بکر کے سریر آرائے خلافت ہونے کو بطور استعارہ خلافت کا لبادہ اوڑھ لینے سے تعبیر کیا ہے اور یہ ایک عام استعارہ ہے۔ چنانچہ جب حضرت عثمان کو خلافت سے دستبردار ہونے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا ہے اور یہ ایک عام استعارہ ہے۔ "لا انزع قمیصاً قمصنیه"۔ "اللہ میں اس قمیص کو نہیں اتاروں گا، جو اللہ نے مجھے پہنا دی ہے"۔ بیشک امیرالموٴمنین(ع) نے اس قمیص پہنانے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں دی ہے بلکہ خود ان کی طرف دی ہے کیونکہ ان کی خلافت باتفاق کل منجانب اللہ نہ تھی بلکہ بطور خود تھی۔ چنانچہ حضرت فرماتے ہیں کہ فرزند ابوقحافہ نے زبردستی جامہ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ خلافت "جامہ بود کہ بر قامت من دوختہ بود"
اور اس میں میری وہی حیثیت تھی جو چکی میں کیل کی ہوتی ہے کہ نہ تو اس کے بغیر وہ اپنے محور پر قائم رہ سکتی ہے اور نہ اس کا کوئی مصرف ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یونہی میں خلافت کا مرکزی نقطہ تھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو اس کا تمام نظام اپنے محور سے ہٹ جاتا اور میں ہی تھا جو اس کے نظم و ضبط کا محافظ بن کر ہر آڑے وقت پر صحیح رہنمائی کرتا تھا۔ میرے سینہ سے علم کے دھارے امنڈتے تھے جو ہر گوشہ کو سیراب کرتے تھے اور میرا پایا اتنا بلند تھا کہ طائرِ فکر بھی وہاں تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ مگر دنیا والوں کا ذوقِ جہانباتی میرے حق کے لئے سنگِ راہ بن گیا۔ اور مجھے گوشہ ٴعزلت اختیار کرنا پڑا ۔ چاروں طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے پھیلے ہوئے تھے اور بھیانک ظلمتیں چھائی ہوئی تھیں۔ بچے بوڑھے ہو گئے اور بوڑھے قبروں میں پہنچ گئے۔ مگر یہ صبر آزمادہ دور ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ میں برابر اپنی آنکھوں سے اپنی میراث کو لٹتے ہوئے دیکھتا رہا اور جامِ خلافت کے دست بدست گردش کرنے کا منظر میری نظروں کے سامنے رہا۔ لیکن میں صبر کے تلخ گھونٹ پیتا رہا۔ اور بے سروسامانی کی وجہ سے ان کی دراز دستیوں کو نہ روک سکا۔
خلیفتہُ الرسُول کی ضرورت اور اُس کا طریق تعین
پیغمبر ِ اسلام کے بعد ایک ایسی ہستی کا وجود نا گزیر تھا جو امت کا شیرازہ بکھرنے نہ دے اور شریعت کو تبدیل و تحریف اور ان لوگوں کی دستبرد سے بچائے رکھے، جو اسے توڑ مروڑ کر اپنی خواہشوں کے مطابق ڈھال لینا چاہتے ہوں۔ اگر اس کی ضرورت ہی سے انکار کر دیا جائے تو پھر پیغمبر کے بعد ان کی نیابت و جانشینی کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دینے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ ان کی تجہیز و تکفین پر سقیفہ بنی ساعدہ کے اجتماع کو مقدم سمجھ لیا جائے اور اگر اس کی ضرورت ثابت ہے تو کیا پیغمبر کو بھی اس کی ضرورت و اہمیت کا احساس تھا یا نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں ہو سکے کہ انہیں اس کی ضرورت یا عدم ضرورت کا احساس ہوتا تو پیغمبر کے ذہن کو ارتداد کی فتنہ انگیزیوں اور بدعتوں کی کار فرمائیوں کی خبر دینے کے باوجود ان کی روک تھام کی فکر و تدبیر سے خالی سمجھ لینا عقل و بصیرت سے محرومی کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ احساس تو تھا مگر مصلحت کی بناء پر اسے غیر طے شدہ چھوڑ جانے پر مجبور تھے۔ تو اس صورت میں اس مصلحت کو زیر ِنقاب رہنے کے بجائے کُھل کر سامنے آنا چاہئے ورنہ بے وجہ خاموشی فرائض نبوت میں کوتاہی سمجھی جائے گی اور اگر کوئی مانع تھا تو اس مانع کو پیش کرنا چاہئے، ورنہ اسے تسلیم کیجئے کہ جس طرح آپ نے دین کا کوئی شعبہ ادھورا نہیں چھوڑا۔ اسے بھی ناتمام نہیں رہنے دیا اور ایک ایسا لائحہ عمل تجویز فرما دیا کہ جس کے بروئے کار لانے سے دین دوسروں کی دستبرد و استیلا سے محفوط رہ سکتا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ لائحہ عمل اور طریق کار کیا تھا۔ اگر اجماع ِ امت کو پیش کیا جائے تو اس کے وقوع پذیر ہونے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اجماع میں ایک ایک فرد کا اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے اور انسانی طبائع کے اختلاف کو دیکھتے ہوئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایک نقطہٴ نظر پر متفق ہو جائیں اور نہ ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ جہاں ایسے مواد پر اختلاف کی کوئی آواز نہ اٹھی ہو تو پھر کیونکہ ایک ایسی بنیادی ضرورت کو ایک ناممکن الوقوع امر سے وابستہ کیا جا سکتا ہے کہ جس پر اسلام کے مستقبل کا انحصار اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا دارو مدار ہو لہذا نہ عقل اس معیار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے اور نہ نقل ہی اس سے ہمنوا ہے چنانچہ قاضی عضد الدین نے مواقف میں تحریر کیا ہے ۔
تمہیں جاننا چاہئے کہ خلافت کا انعقاد اجماع پر منحصر نہیں۔ کیونکہ اس پر کوئی عقلی و نقلی دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔
بلکہ مدعیان اجماع نے بھی جب یہ دیکھا کہ تمام راویوں کا متفق ہونا مشکل ہے تو اقلیت کے اختلاف کو نظر انداز کر کے اکثریت کے اتفاق کو اجماع کے قائم مقام ٹھہرالیا، لیکن اس صورت میں بھی اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ حق و ناحق اور جائزہ ناجائز وسائل کا زور اکثریت کا دھارا ادھر موڑ دیتا ہے کہ جہاں نہ شخصی فضیلت ہوتی ہے اور نہ ذاتی قابلیت جس کے نتیجہ میں اہل افراد دبکے پڑے رہ جاتے ہیں اور ناہل افراد ابھر کر سامنے آجاتے ہیں تو جہاں صلاحیتیں پھڑ پھڑا کر رہ جائیں اور ذاتی غرضیں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جائیں وہاں کسی صحیح شخصیت کے انتخاب کی کیونکہ توقع کی جا سکتی ہے اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ تمام رائے دینے والے ایسے افراد ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی رائے آزاد اور بے لاگ ہے۔ نہ ان میں کوئی صاحب غرض ہے نہ سکی کی رو رعایت رکھتا ہے تو بھی یہ کہاں ضروری ہے کہ اکثریت کا ہر فیصلہ صحیح ہو اور وہ بھٹک کر غلط رای پر آہی نہ سکے۔ جب کہ مشاہدہ بتا رہا ہے کہ اکثریت نے تجربہ کے بعد خود اپنے فیصلوں کو غلط بھی ٹھہرایا ہے تو اگر اکثریت کا ہر فیصلہ صحیح ہی ہوتا ہے تو اس کے پہلے فیصلہ کو غلط ماننا پڑے گا۔ کیونکہ اس کو غلط قرار دینے کا فیصلہ بھی اسی کا فیصلہ ہے۔ اندریں حالات اگر خلیفہ و جانشین کا غلط انتخاب ہو گیا تو اس غلطی کے مہلک نتائج کا کون ذمہ دار ہو گا۔ اور اسلام کی ہیئت اجتماعیہ کی تباہی و بربادی کا مظلمہ کس کی گردن پر آئے گا اور پھر انتخاب کی ہنگامہ آرائیوں اور شورش انگیزیوں میں جو خونریزی و فساد برپا ہو گا وہ کس کے نامہ ٴ اعمال میں لکھا جائے گا۔ جب کہ بزمِ اَدب آموز کے بیٹھنے والوں کو بھی دیکھا جا چکا ہے کہ وہ باہم آویزیوں سے نہ بچ سکے تو کسی اور کا دامن کیا بچ سکتا ہے ۔
اگر ان مقاصد سے بچنے کے لئے اسے اہلِ حل و عقد پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی صوابدید سے کسی ایک کو منتخب کر لیں، تو یہاں بھی وہی انتشار و کشمکش کی صورت پیش آئے گی۔ کیونکہ انسانی طبیعتوں کا یہاں بھی ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں ہے اور نہ انہیں ذاتی اغراض کی سطح سے بلند قرار دیا جا سکتا ہے ۔ جب کہ یہاں تصادم اور ٹکراؤ کے اسباب اور زیادہ قوی ہیں۔ کیونکہ ان میں سے سب نہیں تو اکثر خود اس منصب کے امیدوار ہوں گے اور اپنی کامیابی کے لئے حریف کو زک پہنچانے کی کوئی تدبیر اٹھا نہ رکھیں گے اور جس طرح بن پڑے گا اس کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے جس کا لازمی نتیجہ باہم آویزی دفتنہ انگیزی ہو گا۔تو جس اختلاف و کشمکش سے بچنے کے لئے یہ صورت پیدا کی گئی تھی۔ اس سے بچاؤ نہ ہو سکے گا اور امت کسی صحیح فرد تک پہنچنے کے بچائے دوسروں کے ذاتی مفاد کا آلہٴ کار بن کر رہ جائے گی اور پھر یہ کہ اہل حل و عقد کا معیار کیا ہو گا؟ وہی جو ہر زمانہ میں آرہا ہے کہ جس نے چند ہوا خواہ جمع کر لئے اور کسی اجتماع میں چند مخصوص پُر جوش لفظیں دہرا کر ہلڑ مچوا دیا وہ ابھر کر اہل حل و عقد کی صف میں آگیا۔ یا صلاحیتوں کو بھی پرکھا جائے گا۔ اگر صلاحیتوں کو جانچنے اور پرکھنے کا ذریعہ یہی رائے عامہ ہے تو پھر وہی الجھنیں اور کشمکشیں یہاں بھی پیدا ہو جائیں گی، جن سے بچنے کے لئے یہ راہ اختیار کی گئی تھی اور اگر کوئی اور معیار ہے تو اس پر ان کی صلاحیتوں کو پرکھنے کے بجائے خود اس کی صلاحیت کو کیوں پرکھ لیا جائے کہ جسے اس منصب کا اہل سمجھا جا رہا ہے اور پھر یہ کہ کتنے اہل حل و عقد کا فیصلہ سند سمجھا جائے گا، تو یہاں بھی معمول کے مطابق جو ایک دفعہ ہو گیا وہ ہمیشہ کے لئے سند بن گیا۔ اور جتنے اہل حل و عقد نے کبھی کوئی فیصلہ کیا تھا وہ تعداد حجت بن گئی۔ چنانچہ قاضی عضدالدین تحریر فرماتے ہیں:
بلکہ اہل حل و عقد میں سے ایک دو فردوں کا کسی کو نامزد کر لینا کافی ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صحابہ نے جو دین کے سختی سے پابند تھے، اسی پر اکتفا کی۔ جیسا کہ عمر نے ابو بکر کو اور عبدالرحمن ابن عوف نے عثمان کو منتخب کیا۔
لیجئے یہ ہے سقیفہ بنی ساعدہ کے اجماع کی کارگزاری اور بزمِ شوریٰ کی گرم بازاری کہ ایک ہی شخص کے کارنامہ کا نام اجماع اور ایک ہی فرد کی کارفرمائی کا نام شوریٰ رکھ دیا گیا۔ حضرت ابو بکر نے اس حقیقت کو خوب سمجھ لیا تھا۔ کہ اجماع ایک آدھ ہی کی رائے کا نام ہوا کرتا ہے جیسے بھولے بھالے عوام کے مرمنڈھ دیا جاتا ہے۔ اس لئے انہوں نے اجماع و شوریٰ کا رنگ چڑھائے بغیر علانیہ حضرت عمر کو نامزد کر کے اجماع کی پابندی کثرت رائے کے معیار اور شورائی طریق انتخاب کو نظر انداز کر دیا اور حضرت عائشہ کے نزدیک بھی خلافت کو امت یا چند مخصوص افراد کی رائے پر چھوڑ دینا فتنہ و فساد کو دعوت دینے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عمر کو بسترِ مرگ پر یہ پیغام بھجوایا۔
اُمّت محمد و کو بغیر کسی پاسبان کے نہ چھوڑ جائیے۔اس پر کسی کو خلیفہ مقرر کرتے جائیے اور اسے بے مہار نہ چھوڑ ئیے۔ کیونکہ اس صورت میں مجھے اس کے متعلق فتنہ و شر کا اندیشہ ہے۔
جب انتخاب اہل حل و عقد کا طریقہ بھی کامیاب نہ ہوا تو اسے بھی ختم کر دیا گیا اور صرف"ہر کہ شمشیر زند سکہ نبامش خوانند" معیار بن کر رہ گیا یعنی جو دوسروں کو اپنے اقتدار کی گرفت اور تسلط کے بندھن میں جکڑلے، وہی خلیفہ برحق اور جانشین پیغمبر ہے۔ یہ تھے وہ خود ساختہ اصول جن کے سامنے پیغمبر کے وہ تمام ارشادات جو انہوں نے دعوتِ عشیرہ، شبِ ہجرت، غزوہٴ تبوک، تبلیغ سورہٴ براٴت اور غدیر خم کے موقع پر فرمائے تھے۔ یکسر فراموش کر دیئے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ جب تینوں خلافتیں ایک فرد ہی کی رائے سے طے پاتی ہیں اور اس ایک فرد کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جاتا ہے تو پھر کس دلیل کی بناء پر پیغمبر سے یہ حق سلب کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کی تعیین خود فرما دیتے جب کہ تمام نزاعوں کے سدِ باب کا یہی ایک ذریعہ ہو سکتا تھا کہ وہ خود اسے طے کر کے بعد میں پیداہونے والے خلفشاروں سے امت کو محفوظ کر جاتے اور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اس کا فیصلہ چھوڑنے سے اسے بچالے جاتے جو نفسانی خواہشوں میں الجھے ہوئے اور خود غرضیوں جکڑے ہوئے ہیں اور یہی وہ صحیح طریقِ کار ہے جسے نہ صرف عقل کی تائید حاصل ہے۔ بلکہ پیغمبر کے صریحی ارشادات بھی اس کی حمایت میں ہیں۔
۳) حیان ابن سمین یمامہ میں قبیلہ بن حنیفہ کا سردار اور صاحب ِ قلعہ و سپاہ تھا۔ جابر اس کے چھوٹے بھائی کا نام ہے اور اعشی کہ جس کا اصلی نام میمون ابن قیس ہے۔ اس کی بزمِ ناؤ نوش میں ندیم و مصاحب کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے انعام و اکرام سے خوشحالی و فارغ البالی کی زندگی بسر کرتا تھا اس شعر میں اس نے اپنی پہلی زندگی کا موجودہ زندگی سے تقابل کیا ہے کہ کہاں وہ دن کہ جب رزق کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا اور کہاں یہ دن جو حیان کی مصاجت میں آرامی اور چین سے گزر رہے ہیں۔ امیر الموٴمنین(ع) کے اس شعر کو بطور تمثیل لانے کا مقصد عموماً یہ سمجھا گیا ہے کہ اپنے اس دکھ بھرے زمانے کا مقابلہ اس زمانہ سے کریں جو پیغمبر کے دامانِ عاطفت میں گزرتا تھا اور ہر طرح کے غل و غش سے پاک اور روحانی سکون کا سروسامان لئے ہوئے تھا۔ لیکن محل تمثیل اور نیز مضمونِ شعر پر نظر کرتے ہوئے یہ مقصود ہوتا بعید نہیں ہے کہ برسرِ اقتدار افراد زمانہٴرسول میں بے وقتی اور موجودہ حالت میں ان کے اقتدار و اختیار کا فرق دکھایا جائے۔ یعنی ایک وقت وہ تھا کہ رسول کے زمانے میں میرے سامنے ان کی بات بھی نہ پوچھی جاتی تھی اور اب یہ دور آیا ہے کہ یہ امورِ مسلمین کے واحد مالک بنے ہوئے تھے۔
۴) جب حضرت عمر ابو لولو کے ہاتھ سے زخمی ہوئے اور دیکھا کہ اس کاری زخم سے جانبر ہونا مشکل ہے تو آپ نے انتخاب خلیفہ کے لئے ایک مجلسِ شوریٰ تشکیل دی جس میں علی ابن ابی طالب، عثمان ابن عفان، عبدالرحمن ابن عوف، زبیر ابن عوام، سعد ابن ابی وقاص اور طلحہ ابن ِ عبید اللہ کو نامزد کیا اور ان پر یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ ان کے مرنے کے بعد تین دن کے اندر اپنے میں سے ایک کو خلافت کے لئے منتخب کرلیں اور یہ تینوں دن امامت کے فرائض صہیب انجام دیں۔ ان ہدایات کے بعد ارکانِ شوریٰ میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے متعلق جو خیالات رکھتے ہوں ان کا اظہار فرماتے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں قدم اٹھایا جائے اس پر آپ نے فرداً فرداً ہر ایک کے متعلق اپنی زریں رائے کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ سعد کے متعلق کہا کہ وہ درشت خُو اور تند مزاج ہیں اور عبدالرحمن اس امت کے فرعون ہیں اور زبیر خوش ہوں تو مومن اور غصہ میں ہوں تو کافر اور طلحہ غرور و نخوت کا پتلا ہیں۔ اگر انہیں خلیفہ بنایا گیا تو خلافت کی انگوٹھی اپنی بیوی کے ہاتھ میں پہنادیں گے اور عثمان کو اپنے قوم قبیلہ کے علاوہ کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا۔ رہے علی تو وہ خلافت پر ریجھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ ایک وہی ایسے ہیں جو خلافت کو صحیح راہ پر چلائیں گے۔ مگر اس اعتراف کے باوجود آپ نے مجلسِ شوریٰ کی تشکیل ضروری سمجھی اور اس کے انتخاب ارکان اور طریق کار میں وہ تمام صورتیں پیدا کردیں کہ جس سے خلافت کا رخ ادھر ہی بڑھے جدھر آپ موڑنا چاہتے تھے چنانچہ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ سے کام لینے والا بآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ اس میں حضرت عثمان کی کامیابی کے تمام اسباب فراہم تھے۔اس کے ارکان کو دیکھئے تو ان میں ایک حضرت عثمان کے بہنوئی عبدالرحمن ابن عوف ہیں۔ اور دوسرے سعد ابن ابی وقاص ہیں جو امیرالموٴمنین سے کینہ و عناد رکھنے کے علاوہ عبدالرحمٰن کے عزیز و ہم قبیلہ بھی ہیں۔ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی حضرت عثمان کے خلاف تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تیسرے طلحہ ابن عبید اللہ تھے، جن کے متعلق علامہ محمد عبدہ حواشی نہج البلاغہ میں تحریر کرتے ہیں۔
طلحہ حضرت عثمان کی طرف مائل تھے اور مائل ہونے کی یہی وجہ کیا کم ہے کہ وہ حضرت علی سے منحرف تھے کیونکہ یہ تیمی تھے اور ابو بکر کے خلیفہ ہو جانے کے سبب سے بنی تیم و و بنی ہاشم میں رنجشیں پیدا ہو چکی تھیں۔
رہے زبیر تو یہ اگر حضرت کا ساتھ دیتے بھی تو ایک اکیلی رائے کیا بنا سکتی تھی۔ طبری وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ طلحہ اس موقعہ پر مدینہ میں موجود نہ تھے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی حضرت عثمان کی کامیابی میں سدِ راہ نہ تھی بلکہ وہ موجود بھی ہوتے جیسا کہ شوریٰ کے موقعہ پر پہنچ گئے تھے اور انہیں امیرالمومنین کا ہمنوا بھی سمجھ لیا جائے جب بھی حضرت عثمان کی کامیابی میں کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ حضرت عمر کے ذہن رسانے طریق کار یہ تجویز کیا تھا کہ:
اگر تین ایک پر اور تین ایک پر رضا مند ہوں تو اس صورت میں عبداللہ ابن عمر کو ثالث بناؤ جس طریق کے متعلق وہ حکم لگائے۔ وہی فریق اپنے میں سے خلیفہ کا انتخاب کرے اور اگر وہ عبداللہ ابن عمر کے فیصلہ پر رضا مند نہ ہوں تو تم اس فریق کا ساتھ دو جس میں عبدالرحمن ابن عوف ہو، اور دوسرے لوگ اگر اس سے اتفاق نہ کریں تو انہیں اس متفقہ فیصلے کے خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے قتل کردو۔
اس مقام پر عبداللہ ابنِ عمر کے فیصلہ پر نارضامند رہے کیا معنی جب کہ انہیں یہ ہدایت کر دی جاتی ہے کہ وہ اسی گروہ کا ساتھ دیں جس میں عبدالرحمن ہوں۔ چنانچہ عبداللہ کو حکم دیا کر:
اے عبداللہ اگر قوم میں اختلاف ہو تو تم اکثریت کا ساتھ دینا اور اگر تین ایک طرف ہوں اور تین ایک طرف تو تم اس فریق کا ساتھ دینا جس میں عبدالرحمن ہوں۔
اس فرمائش سے اکثریت کی ہمنوائی سے بھی یہی مراد ہے کہ عبدالرحمن کا ساتھ دیاجائے کیونکہ دوسری طرف اکثریت ہو ہی کیونکر سکتی تھی۔ جب کہ ابو طلحہ انصاری کی زیر قیادت پچاس خونخوار تلواروں کو حزبِ مخالف کے سروں پر مسلط کر کے عبداالرحمن کے اشارہٴ چشم دابرد پر جھکنے کے لئے مجبور کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ امیرالموٴمنین کی نظروں نے اسی وقت بھانپ لیا تھا کہ خلافت حضرت عثمان کی ہو گی۔ جیسا کہ آپ کے اس کلام سے ظاہر ہے جو ابن عباس سے مخاطب ہو کر فرمایا۔
خلافت کا رخ ہم سے موڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے معلوم ہوا؟فرمایا کہ میرے ساتھ عثمان کو بھی لگا دیا ہے اور یہ کہا کہ اکثریت کا ساتھ دو اور اگر دو ایک پر اور دو ایک پر رضامند ہوں تو تم ان لوگوں کا ساتھ دو جن میں عبدالرحمن بن عوف ہو۔ چنانچہ سعد تو اپنے چچیرے بھائی عبدالرحمن کا ساتھ دیگا اور عبدالرحمن تو عثمان کا بہنوئی ہوتا ہی ہے۔
بہر حال حضرت عمر کی رحلت کے بعد حضرت عائشہ کے حجرہ میں یہ اجتماع ہوا، اور دروازہ پر ابو طلحہ انصاری پچاس آدمیوں کے ساتھ شمشیر بکف آ کھڑا ہوا، طلحہ نے کاروائی کی ابتداء کی اور سب کو گواہ بنا کر کہا کہ میں اپنا حق رائے و ہندگی حضرت عثمان کو دیتا ہوں۔ اس پر زبیر کی رگِ حمیت پھڑکی(کیونکہ ان کی والدہ حضرت کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب تھیں ) اور انہوں نے اپنا حق رائے دہندگی علی ابن ابی طالب کو سونپ دیا۔ پھر سعد ابن ابی وقاص نے اپنا حق رائے دہندگی عبدالرحمن کے حوالے کر دیا اب مجلسِ شورٰی کے ارکان صرف تین رہ گئے جن میں سے عبدالرحمن نے کہا کہ میں اس شرط پر اپنے حق سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہوں کہ آپ دونوں (علی ابنِ ابی طالب اور عثمان ابنِ غفان) اپنے میں سے ایک کو منتخب کر لینے کا حق مجھے دے دیں۔ یا آپ میں سے کوئی ایک دستبردار ہو کر یہ حق لے لے ۔ یہ ایک ایسا جال تھا جس میں امیرالموٴمنین کو ہر طرف سے جکڑ لیا گیا تھا۔ کہ یا تو اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں یا عبدالرحٰمن کو اپنی من مانی کاروائی کرنے دیں۔پہلی صورت آپ کے لئے ممکن ہی نہ تھی کہ حق سے دستبردار ہو کر عثمان یا عبدالرحمن کو منتخب کریں۔ اسلئے آپ اپنے حق پر جمے رہے اور عبدالرحمن نے اپنے اس سے الگ کر کے یہ اختیار سنبھال لیا اور امیر الموٴمنین سے مخاطب ہو کر کہا:"ابایعک علیٰ کتاب اللہ و سنة رسول اللہ و سیرة الشیخین ابی بکر و عمر"۔ "میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کتابِ خدا سنت رسول اور ابو بکر اور عمر کی سیرت پر چلیں"۔ آپ نے کہا:"بل علیٰ کتاب اللہ و سنة رسول اللہ و اجتھاد رائی"۔ نہیں "بلکہ میں اللہ کی کتاب رسول کی سنت اور اپنے مسلک پر چلوں گا"۔ تین مرتبہ دریافت کرنے کے بعد جب یہی جواب ملا تو حضرت عثمان سے مخاطب ہر کر کہا کیا آپ کو یہ شرائط منظور ہیں؟ان کے لئے انکار کی کوئی وجہ ہی نہ تھی۔ انہوں نے ان شرائط کو مان لیا اور ان کی بیعت ہو گئی۔ جب امیرالموٴمنین نے اپنے حق کو یوں پامال ہوتے دیکھا تو فرمایا:
یہ پہلا دن نہیں ہے کہ تم نے ہم پر زیادتی کی ہو اب صبر جمیل کے علاوہ کیا چارہ ہے اور جو باتیں تم کرتے ہو اس پر اللہ ہی مددگار ہے۔ خدا کی قسم! تم نے عثمان کو اس امید پر خلافت دی ہے کہ وہ اسے کل تمہارے حوالہ کر جائے۔
ابن ابی الحدید نے شوریٰ کے واقعات کو لکھنے کے بعد تحریر کیا ہے کہ جب حضرت عثمان کی بیعت ہو گئی تو امیرالموٴمنین نے عبدالرحمن اور عثمان کو مخاطب کر کے کہا:"دق اللہ بینکما عطر منشم"۔ "خدا تمہارے درمیان عطرِ منشم چھڑ کے" اور تمہاری ایک دوسرے سے بن نہ آئے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہو گئے اور عبدالرحمن نے مرتے دم تک حضرت عثمان سے بات چیت کرتا گوارا نہ کی اور بسترِ مرگ پر بھی انہیں دیکھ کر منہ پھیر لیا۔
ان واقعات کو دیکھنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شوریٰ اسی کا نام ہے جو چھ آدمیوں میں منحصر ہوا اور پھر تین میں اور آخر میں ایک ہی فرد میں منحصر ہو کر رہ جائے اور کیا انتخاب خلافت کے لئے سیرتِ شیخین کی شرط حضرت عمر کی طرف سے تھی یا عبدالرحمن نے امیرالموٴمنین اور خلافت کے درمیان ایک دیوار کھڑی کرنے کے لئے پیش کی تھی حالانکہ اول نے خلیفہ ثانی کو نامزد کرتے وقت یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ تمہیں میری سیرت پر چلنا ہو گا تو اس کا یہاں پر کیا محل تھا۔
بہر صورت امیر الموٴمنین نے فتنہ و فساد کو روکنے اور حجت تمام کرنے کے لئے اس میں شرکت گوارا فرمالی تاکہ ان کے ذہنوں پر ققل پڑ جائیں اور یہ نہ کہتے پھریں کہ ہم تو انہیں کے حق میں رائے دیتے مگر خود انہوں نے شوریٰ سے کنارہ کشی کر لی اور ہمیں موقع نہ دیا کہ ہم آپ کو منتخب کرتے۔
۵) عہد ثالث کے متعلق فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے بر سرِ اقتدار آتے ہی بنی امیہ کی بن آئی اور انہوں نے بیت المال کو لوٹنا شروع کر دیا اور جس طرح چوپائے خشک سالیوں کے بعد ہرا بھرا سبزہ دیکھ لیں تو اسے پامال کر کے چھوڑتے ہیں یونہی یہ اللہ کے مال پر بے تحاشا ٹوٹ پرے اور اسے تباہ کر کے رکھ دیا۔ آخر اس خود پروری اور خویش نوازی نے انہیں وہ روزِ بد دکھایا کہ لوگوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر کے انہیں تلواروں کی زد پر رکھ لیا اور سب کھایا پیا اگلوالیا۔
اس دور میں جس طرح کی بد عنوانیاں ہوئیں ان پر کسی مسلمان کا دل دکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جلیل القدر صحابہ تو گوشوں میں پڑے ہوں۔ غربت ان پر چھائی ہوئی ہو، افلاس انہیں گھیرے ہوئے ہو اور بیت المال پر تسلط ہو تو بنی امیہ کا عہدوں پر چھائے ہوئے ہوں تو انہیں کے نوخیز و ناتجربہ کار افراد مسلمانوں کی مخصوص ملکیتوں پر قبضہ ہو تو ان کا تمام چراگاہوں میں چوپائے چریں تو ان کے محلات تعمیر ہوں تو ان کے باغات لگیں تو ان کے اور کوئی درد مندان بے اعتدالیوں کے خلاف زبان ہلائے تو اس کی پسلیاں توڑ دی جائیں اور کوئی س سرمایہ داری کے خلاف آواز بلند کرے تو اسے شہر بدر کر دیا جائے۔ زکٰوة صدقات جو فقراء اور مساکین کا حق تھا اور بیت المال جو مسلمانوں کا مشترکہ سرمایہ تھا اس کا مصرف کیا قرار دیا گیا تھا وہ ذیل کے چند نمونوں سے ظاہر ہے:
۱۔ حکم ابن عاص کو کہ جسے رسول نے مدینہ سے نکلوا دیا تھا نہ صرف سنت ِ رسول بلکہ سیرت شیخین کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے مدینہ واپس بلوالیا اور بیت المال سے ایک لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (معاف ابن قتیبہ صفحہ ۹۴)
٢۔ ولید ابن عقبہ کو کہ جسے قرآن نے فاسق کہا ہے۔ مسلمانوں کے مال میں سے ایک لاکھ درہم دیئے (عقد الفرید ج ۳ صفحہ ۹۴)
۳۔ مروان ابن حکم سے اپنی بیٹی ابان کی شادی کی تو ایک لاکھ درہم بیت المال سے دیئے (شرح ابنِ ابی الحدید صفحہ ۳۹ جلد ۱)
۴۔ حارث ابن حکم سے اپنی بیٹی عائشہ کا عقد کیا تو ایک لاکھ درہم بیت المال سے اسے عطا فرمائے۔ (شرح ابن ابی الحدید جلد ۱ صفحہ ۳۹)
۵۔ ابو سفیان ابن حرب کو لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (شرح ابن ابی الحدید جلد صفحہ ۳۹)
۶۔ عبداللہ ابن خالد کوچار لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (معاف صفحہ ۸۴)
۷۔ مال افریقہ کا خمس (پانچ لاکھ دینار) مردان کی نذر کر دیا۔ (معاف صفحہ ۸۴)
۸۔ فدک کہ جسے صدقہ عام کہہ کر پیغمبر کی قدسی صفات بیٹی سے روک لیا گیا تھا۔ مروان کو عطائے خس دانہ کے طور پر دے دیا۔ (معاف ابن قتیبہ صفحہ ۸۴)
۹۔ بازارِ مدینہ میں بہزور ایک جگہ تھی جسے رسول نے مسلمانوں کے لئے وقف عام قرار دیا تھا۔ حارث ابن حکم کو بخش دی۔ (معارف صفحہ ۸۴)
۱۰۔ مدینہ کے گرد جتنی چراگاہیں تھیں ان میں بنی امیہ کے علاوہ کسی کے اونٹوں کو چرنے کی اجازت نہ تھی ۔ (شرح ابن ابی الحدید ۳۹ جلد ۱)
۱۱۔ مرنے کے بعد ایک لاکھ پچاس ہزار دینار اور دس لاکھ درہم آپ کے ہاں نکلے۔ جاگیروں کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ صرف چند ایک جاگیروں کی قیمت کا اندازہ ایک لاکھ دینار تھا۔اونٹوں اور گھوڑوں کا شمار نہیں ہو سکتا۔ (مروج الذہب جلد ۱ صفحہ ۴۳۵)
۱٢۔ مرکز شہروں پر آپ ہی کے عزیز و اقارب حکمران تھے۔ چنانچہ کوفہ پر ولید ابن عقبہ حاکم تھا۔ مگر جب اس نے شراب کے نشہ میں چور ہو کر صبح کی نماز دو رکعت کے بجائے چار رکعت پڑھا دی، تو لوگوں کے شور مچانے پر اسے معزول تو کر دیا۔ مگر اس کی جگہ پر سعید ابن عاص جیسے فاسق کو مقرر کر دیا۔ مصر پر عبداللہ ابن ابی سرح شام پر معاویہ ابنِ ابی سفیان اور بصرہ پر عبداللہ ابنِ عامر آپ کے مقرر کردہ حکمران تھے۔ (مروج الذہب جلد ۱ صفحہ ۴۲۵)
ا
الرجوع الى أعلى الصفحة اذهب الى الأسفل
معاينة صفحة البيانات الشخصي للعضو http://duahadith.forumarabia.com
 
نهج البلاغة 3
استعرض الموضوع السابق استعرض الموضوع التالي الرجوع الى أعلى الصفحة 
صفحة 1 من اصل 1

صلاحيات هذا المنتدى:لاتستطيع الرد على المواضيع في هذا المنتدى
اهل البيت :: الفئة الأولى :: quran dua hadith in urdu باللغة الباكستان :: نهج البلاغة-
انتقل الى: